Sunday, August 23, 2026 | 08 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • امریکہ اور کینیڈا میں تجارتی معاہدہ ناکام، 50 فیصد ٹیرف نافذ

امریکہ اور کینیڈا میں تجارتی معاہدہ ناکام، 50 فیصد ٹیرف نافذ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 22, 2026 IST

امریکہ اور کینیڈا میں تجارتی معاہدہ ناکام، 50 فیصد ٹیرف نافذ
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے ہونے والے چندمذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ دونوں ممالک کسی نئے معاہدے پر متفق نہیں ہوسکے، جس کے بعد امریکہ کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یہ ٹیرف عائد کرتا ہے تو کینیڈا بھی اسی کے برابر جواب دے گا۔

معاہدہ کیوں نہیں ہوا؟

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق کینیڈا نے ان شرائط پر معاہدہ مکمل کرنے سے انکار کیا جن پر اس ہفتے کے شروع میں بات ہوئی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے کینیڈا کو دوسرے بڑے برآمد کنندگان کے مقابلے میں بہتر شرائط دینے کی کوشش کی، لیکن مذاکرات کے آخری مرحلے میں کینیڈا نے نئی شرائط پیش کیں۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔

کینیڈا کا جواب

 وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکہ کی طرف سے کی گئی تبدیلیاں قابل قبول نہیں تھیں۔ کارنی نے کہا کہ اگر امریکہ کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف لگاتا ہے تو کینیڈا بھی امریکی محصولات کا برابر جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کینیڈا کے کارکنوں اور کاروباروں کو تحفظ دینا ہے۔

50 فیصد ٹیرف اب نافذ ہو چکا ہے۔

 تازہ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔

50 فیصد ٹیرف کا اثر

امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف سے کینیڈا کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی تقریباً 5 فیصد اشیا متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان میں ہاکی اسٹکس، طبی سامان اور دوسری مصنوعات شامل ہیں۔

ٹیرف کا مطلب

ٹیرف دراصل وہ اضافی ٹیکس ہے جو کوئی ملک دوسرے ملک سے آنے والی اشیا پر لگاتا ہے۔ مثلاً اگر امریکہ کسی کینیڈین چیز پر 50 فیصد ٹیرف لگاتا ہے تو اس چیز کو امریکہ میں درآمد کرنے والے کاروبار کو اس کی قیمت کے علاوہ 50 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔

دونوں ممالک کی بڑی تجارت

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 880 ارب ڈالر مالیت کی اشیا اور خدمات کا لین دین ہوا۔ اسی لیے نئے ٹیرف سے صرف کاروبار ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

ڈیڈ لائن میں بھی توسیع ہوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر ٹیرف کی آخری تاریخ میں تین دن کی توسیع کی تھی۔ اس کے باوجود آخری وقت تک مذاکرات جاری رہنے کے بعد بھی کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر اگر امریکہ 50 فیصد ٹیرف نافذ کرتا ہے اور کینیڈا اس کے جواب میں امریکی اشیا پر برابر ٹیکس عائد کرتا ہے۔

USMCA پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

اس تنازع سے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان موجود تجارتی معاہدے USMCA/CUSMA کے مستقبل پر بھی سوال پیدا ہوگئے ہیں