• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • امریکہ کا برازیل پر 25 فیصد ٹیرف، تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ

امریکہ کا برازیل پر 25 فیصد ٹیرف، تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 16, 2026 IST

امریکہ کا برازیل پر 25 فیصد ٹیرف، تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ
ایران کے ساتھ جاری کشیدہ صورتحال کے درمیان امریکہ نے ایک اور بڑا تجارتی قدم اٹھاتے ہوئے برازیل سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کی منظوری دیتے ہوئے امریکی تجارتی نمائندے (USTR) کو فوری عمل درآمد کی ہدایت دی ہے۔ اس اقدام کے بعد امریکہ اور برازیل کے درمیان تجارتی تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ برازیل کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں نیک نیتی اور دیانت داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا اور ان کی حکومت معاہدوں پر پیش رفت کے بجائے سیاسی معاملات میں زیادہ مصروف رہی، جس کے باعث امریکہ کو سخت تجارتی اقدامات اٹھانے پڑے۔
 
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے پس منظر میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے اور واشنگٹن کو امید تھی کہ برازیل باہمی مفادات کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھائے گا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
 
دوسری جانب برازیل نے امریکی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور غیر منصفانہ اقدام قرار دیا ہے۔ برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ حقائق کے برعکس ہے کیونکہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران امریکہ نے برازیل کے ساتھ اشیا اور خدمات کی تجارت میں تقریباً 424.5 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ 2025 کے دوران امریکہ سے آنے والی تقریباً 76 فیصد درآمدات برازیل میں بغیر کسی درآمدی ڈیوٹی کے داخل ہوئیں، جبکہ امریکی مصنوعات پر اوسط درآمدی ٹیرف صرف 3 فیصد تھا۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں برازیل پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنا کسی بھی طرح منصفانہ یا متوازن فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔
 
برازیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس اقدام کے جواب میں اپنے باہمی تجارتی قوانین استعمال کرے گی اور معاملہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) میں بھی اٹھایا جائے گا تاکہ اس فیصلے کو بین الاقوامی تجارتی قوانین کی روشنی میں چیلنج کیا جا سکے۔
 
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھارت سمیت کئی دیگر ممالک پر بھی مختلف شعبوں میں اضافی محصولات عائد کر چکے ہیں۔ اب برازیل پر 25 فیصد ٹیرف کے نفاذ نے عالمی تجارتی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس تجارتی تنازع کے اثرات عالمی منڈیوں، برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری پر بھی پڑ سکتے ہیں، جبکہ عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔