امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، حالانکہ ایران کی وزارت خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی جاری بات چیت کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایران کے لیے معاہدہ کرنے کا آخری موقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر علاقائی اتحادیوں کی درخواست پر ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، "ہم ابھی بات کر رہے ہیں" اور ایران کو ایک بہتر معاہدے پر دستخط کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی حل نہ نکلا تو صورتحال مزید سخت ہو سکتی ہے۔
امریکی فوج ایران پر دباؤ کے لیے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ"سینٹکام " نے ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے نئے اور مختلف طریقے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق، "سینٹکام " کی انٹیلی جنس برانچ کے ایک افسر نے اہلکاروں کو ایک پیغام بھیجا، جس میں ایران کو دباؤ میں لانے اور سزا دینے کے لیے "نئے تخلیقی اور غیر روایتی طریقے" تجویز کرنے کو کہا گیا۔ "سینٹکام " کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ہمیشہ نئے خیالات اور بہتر طریقوں پر کام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمانڈر اپنی ٹیم کے ارکان سے مختلف سطحوں پر تجاویز لیتے ہیں تاکہ آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام پر توجہ
ٹرمپ کے مطابق مذاکرات میں دو اہم معاملات زیر بحث ہیں: آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا حل نکالنا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ممکنہ طور پر بہت جلد دوبارہ کھولی جا سکتی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو حل کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے جاری ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ اس کے بعد کچھ سفارتی کوششوں کے باعث حالات میں وقتی بہتری آئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ رکھتا ہے اور خطے میں امریکی اور اتحادی اہداف کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں مال بردار جہاز کو نامعلوم چیز سے ٹکر
ایک تازہ واقعے میں برطانیہ کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی "UKMTO" نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک نامعلوم کارگو جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکر لگی۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جہاز کی شناخت، ممکنہ نقصان یا کسی جانی نقصان کے بارے میں فوری معلومات فراہم نہیں کی گئی۔