Saturday, May 23, 2026 | 05 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران-امریکہ معاہدے کی خبریں، پاکستان کی مبینہ ثالثی، خطے میں بڑی سفارتی پیش رفت کا امکان

ایران-امریکہ معاہدے کی خبریں، پاکستان کی مبینہ ثالثی، خطے میں بڑی سفارتی پیش رفت کا امکان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 22, 2026 IST

ایران-امریکہ معاہدے کی خبریں، پاکستان کی مبینہ ثالثی، خطے میں بڑی سفارتی پیش رفت کا امکان
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق رپورٹس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایک ایسے حتمی مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں ممکن بتایا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اس پیش رفت میں پاکستان کی ثالثی نے اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
 
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے چیف آف آرمی چیف عاصم منیر ایران کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ تہران میں اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کا مسودہ ان کے پہنچنے کے بعد سامنے لایا جا سکتا ہے۔ اسی دوران پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل ملاقاتوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
 
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مجوزہ مسودے میں کئی اہم نکات پر اتفاق کی خبریں زیر گردش ہیں۔ ان میں فوجی، سویلین اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے، دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے، اور سرحدی احترام کے اصول شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زمینی، فضائی اور سمندری حدود میں کشیدگی کم کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے نکات بھی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
 
مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے لیے ایک مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے، تاکہ خطے میں توانائی اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطر نے ثالثی کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران بھیجا ہے۔ اس سفارتی عمل میں قطر کے کردار کو امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
 
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کی جانب سے مذاکراتی عمل میں نئی نامزدگیوں سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مذاکراتی ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک کسی بھی فریق نے اس معاہدے کی حتمی منظوری یا دستخط کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جس کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی اور انتہائی حساس قرار دی جا رہی ہے۔