• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ نے ایران پر تازہ فضائی حملے شروع کردیے ، ہرمز کے قریب فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا

امریکہ نے ایران پر تازہ فضائی حملے شروع کردیے ، ہرمز کے قریب فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 16, 2026 IST

امریکہ نے ایران پر تازہ فضائی حملے شروع کردیے ، ہرمز کے قریب فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا
 
امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایران کی ان فوجی تنصیبات  کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور بحری جہازوں کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اپنے "حملوں " پر خبردار کیا تھا۔
 

CENTCOM نے حملوں کی تصدیق کی

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بتایا کہ امریکی صدر کی ہدایت پر بدھ کو سہ پہر 3 بجے ایران پر حملوںکادوسرا مرحلہ شروع کر دیا ۔CENTCOM کے مطابق، ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا جنہیں آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے تجارتی اور بحری جہازوں کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔
 

ایرانی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات

حملوں کے بعد ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے شہروں اہواز اور چابہار میں دھماکوں کی اطلاع دی۔  فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کا براہِ راست تعلق امریکی حملوں سے تھا یا نہیں۔
 

پہلے مرحلے میں کن کو نشانہ بنایا گیا؟

اس سے پہلے بدھ کی صبح 7:30 بجے CENTCOM نے ایران پر حملوں کا پہلا مرحلہ مکمل کیا تھا۔امریکی فوج کے مطابق، تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخیرے اور گریٹر ٹنب جزیرے پر موجود میزائل لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔CENTCOM کا کہنا ہے کہ ان کاروائیوں سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت مزید کمزور ہوئی ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
 

امریکہ نے بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی

ادھر امریکہ نے ایران پر دوبارہ بحری ناکہ بندی بھی عائد کر دی ہے۔ امریکی کاروائی اس وقت تیز کی گئی جب ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے یا انہیں روکنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا گیا۔
 

ایرانی حکام کا دعویٰ

ایرانی حکام کے مطابق، تازہ امریکی حملوں میں ایرانی فوج کی ایک بیرک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم سات فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
 

خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی

امریکہ اور ایران کے درمیان کئی روز سے جاری جوابی حملوں کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز بھی دوبارہ خطرات کی زد میں آ گئی ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق، اس نئی کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطہ دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔
 

بحری ناکہ بندی پہلے بھی لگائی گئی تھی

امریکہ نے پہلی بار اپریل میں ایران پر بحری ناکہ بندی عائد کی تھی،  گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی عبوری جنگ بندی کے بعد اسے ختم کر دیا گیا تھا۔اس جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے جنگ روکنے اور ایران کے جوہری پروگرام (Nuclear Program)سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے 60 دن کا وقت دیا تھا، لیکن آبنائے ہرمز کے قریب دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات رک گئے ۔