امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ یہ جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کی طویل تعیناتی اور جہاز پر موجود حالات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کچھ ملاحوں نے طویل عرصے تک سمندر میں رہنے سے بچنے کے لیے جہاز سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔ ان اطلاعات کے بعد امریکی بحریہ کے ملاحوں کی ذہنی صحت اور ان کی سلامتی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ
امریکی بحریہ کا یو ایس ایس جارج واشنگٹن حال ہی میں ویتنام کے شہر دا نانگ سے روانہ ہوا۔ اس کے بعد یہ سنگاپور اور ملاکا کی آبنائے سے گزرتا ہوا بحر ہند میں داخل ہوا۔ امریکی حکام کے مطابق جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا براہ راست تعلق یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے سے متعلق حالیہ شکایات سے نہیں ہے۔
لنکن 260 دن سے زیادہ سمندر میں رہا
یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 5 ہزار ملاحوں اور میرینز کو لے کر 21 نومبر کو سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی تعیناتی بحرالکاہل کے علاقے کے لیے تھی، لیکن بعد میں اسے مشرق وسطیٰ بھیج دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق جہاز کے عملے نے 260 دن سے زیادہ سمندر میں گزارے ہیں۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ جہاز نے مسلسل تقریباً 200 دن تک کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں وقت گزارا، جس سے ملاحوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑا۔
طویل تعیناتی سے ملاحوں میں تھکن بڑھنے کی اطلاعات
طویل عرصے تک گھر سے دور رہنے اور مسلسل سمندر میں موجود رہنے کی وجہ سے ملاحوں میں شدید تھکن اور ذہنی دباؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ ملاحوں نے جہاز سے باہر جانے کی کوشش کی۔ ایک واقعے میں ایک ملاح کو اس کے ساتھی نے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس صورتحال کے بعد ملاحوں کے خاندانوں نے بھی امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
خاندانوں نے بحریہ کے حکام سے جواب مانگا
سان ڈیاگو میں ایک ملاقات کے دوران تقریباً 200 فوجی خاندانوں نے بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاو اور دیگر اعلیٰ حکام سے بات کی۔خاندانوں نے خاص طور پر یہ سوال اٹھایا کہ ملاحوں کو کب واپس گھر لایا جائے گا اور ان کی طویل تعیناتی کب ختم ہوگی۔ خاندانوں کے مطابق جہاز پر بنیادی سہولیات سے متعلق بھی کئی مسائل سامنے آئے ہیں۔
جہاز پر پانی، بیت الخلاء اور سامان کی شکایات
سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ انہیں ملاحوں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات میں صاف پانی کے مسائل، پلمبنگ کی خرابی، حفاظتی مسائل، ذہنی دباؤ اور ڈاک کی ترسیل میں تاخیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جہاز پر پھپھوندی، خراب بیت الخلاء، طویل عرصے تک گرم پانی نہ ملنے اور کھانے و ذاتی صفائی کے سامان کی کمی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
بحریہ نے کچھ دعووں کی تردید کی
امریکی بحریہ نے ان دعووں کو مسترد کیا ہے کہ جہاز کے ملاحوں میں خودکشی کے خیالات یا خودکشی کی کوششوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بحری حکام کا کہنا ہے کہ ملاحوں کو ذہنی صحت کے ماہرین، مذہبی مشیروں، صاف پینے کے پانی اور مناسب کھانے جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔
وزیر دفاع نے بھی خبروں کو مسترد کیا
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر خراب حالات سے متعلق بعض خبروں کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صورتحال کو درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ امریکی بحریہ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں معمول کی سپلائی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں کھانے، صفائی کے سامان اور ڈاک کی ترسیل میں تاخیر ہوئی۔ جارج واشنگٹن کی تعیناتی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات کے باعث خطے میں امریکی فوجی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
یہ مسئلہ صرف لنکن تک محدود نہیں
ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحریہ میں طویل تعیناتی کا مسئلہ پہلے بھی سامنے آ چکا ہے۔ 2024 اور 2025 میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف کاروائیوں کے دوران دوسرے امریکی بحری جہازوں، خاص طور پر یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین، کی طویل تعیناتیوں نے بھی ملاحوں پر پڑنے والے دباؤ کو نمایاں کیا تھا۔
لنکن کی واپسی کی واضح تاریخ اب بھی نہیں
خاندانوں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ انہیں ملاحوں کی واپسی یا تعیناتی ختم ہونے کی واضح تاریخ نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے خاندانوں نے بحریہ کے اعلیٰ حکام سے جواب طلب کیا ہے