Sunday, May 03, 2026 | 15 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • آبنائے ہرمز تنازع کے درمیان امریکہ کاچینی کمپنی کے خلاف بڑا ایکشن

آبنائے ہرمز تنازع کے درمیان امریکہ کاچینی کمپنی کے خلاف بڑا ایکشن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 03, 2026 IST

آبنائے ہرمز تنازع کے درمیان امریکہ کاچینی کمپنی  کے خلاف بڑا ایکشن
امریکہ نے چین میں قائم ایک خام تیل کے ٹرمینل آپریٹر پر ایرانی کمپنیوں سے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے پر پابندی لگا دی اور دیگر کمپنیوں کو بھی خبردار کیا کہ اگر وہ آبنائے ہرموز  سے گزرنے کے لیے تہران کو ٹیکس ادا کریں گے تو انہیں بھی اسی طرح کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
 
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ نے ایک بیان میں کہا، "امریکہ ایرانی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنے کے لیے فیصلہ کن کاروائی کر رہا ہے، کیونکہ یہ تجارت ایرانی حکومت کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔
 
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پیگوٹ نے کہا کہ محکمہ نے ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرولیم پروڈکٹس کی تجارت میں ملوث کئی اداروں، ایک شخص اور ایک جہاز پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ کارروائی چین میں واقع پیٹرولیم ٹرمینل آپریٹر کِنگڈاؤ ہائے پر کی گئی ہے۔ اس کمپنی نے پچھلے سال فروری سے پابندی زدہ ایرانی خام تیل کے کروڑوں بیرل درآمد کیے ہیں۔
 
کن کن پر لگایا پابندی؟
 
امریکہ نے کِنگڈاؤ ہائے کے چیئرمین، چینی شہری شِنگچُن لی اور دو جہاز انتظامی کمپنیوں ، برطانیہ میں واقع تھرائیونگ ٹائمز انٹرنیشنل اور ہانگ کانگ میں واقع آن بورڈ شپ مینجمنٹ لمیٹڈ  پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
 
دو جہاز انتظامی کمپنیوں کے خلاف یہ کاروائی ایرانی پیٹرولیم پروڈکٹس کی نقل و حمل اور خریداری کے لیے استعمال ہونے والے غیر قانونی بیڑوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کے تحت کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ان کمپنیوں کے زیر انتظام جہاز ایرانی برآمدات کی سپلائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے غیر قانونی سرگرمیوں اور دیگر دھوکہ دہی والی جہاز رانی کی روشوں میں ملوث رہے ہیں، جس سے دیگر جہازوں اور تجارت کے بہاؤ کو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
 
امریکہ کا انتباہ!
 
تیل کی ترسیل کے علاوہ امریکی محکمہ خزانہ نے سمندری صنعت سے وابستہ تمام اداروں کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے ایرانی حکومت کو کسی بھی قسم کی ادائیگی پابندیوں کو دعوت دینے کے مترادف ہوگی۔ مزید برآں، امریکی انتظامیہ نے ایران کی تین بڑی کرنسی ایکسچینج کمپنیوں 'اوپل ایکسچینج'، 'رادین ایکسچینج' اور 'تہیوری اینڈ ایسوسی ایٹس' سمیت ان سے جڑی فرضی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
 
 محکمہ خزانہ کے مطابق یہ ادارے ہر سال اربوں ڈالر کے غیر ملکی کرنسی کے لین دین میں ایرانی حکومت کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس تازہ ترین امریکی کاروائی کا مقصد ایران کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر تنہا کرنا ہے۔