منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج خواتین میں پیشاب پر کنٹرول نہ رہنے (Urinary Incontinence in Women) جیسے اہم مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے طبی مسئلے پر خصوصی گفتگو پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر نرملا اے پاپلکر، سینئر کنسلٹنٹ یوروگائناکولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس، جوبلی ہلز، حیدرآباد نے اس بیماری کی وجوہات، علامات، تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر نرملا نے بتایا کہ پیشاب پر کنٹرول نہ رہنا صرف بڑھاپے کی بیماری نہیں بلکہ یہ ہرعمرکی خواتین کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر وہ خواتین جن کے ہاں نارمل ڈیلیوری ہو چکی ہو، جو موٹاپے کا شکار ہوں، یا جن میں ہارمونل تبدیلیاں، خاص طور پر سنِ یاس (Menopause) کے بعد، رونما ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی خواتین شرمندگی یا سماجی دباؤ کی وجہ سے اس مسئلے کو چھپاتی ہیں، حالانکہ بروقت علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس بیماری کی کئی اقسام ہیں، جن میں Stress Urinary Incontinence، Urge Incontinence اور Mixed Incontinence شامل ہیں۔ بعض خواتین کو کھانسنے، چھینکنے، ہنسنے یا وزن اٹھانے کے دوران پیشاب خارج ہونے کی شکایت ہوتی ہے، جبکہ کچھ مریضات کو اچانک شدید پیشاب آنے کا احساس ہوتا ہے اور وہ بروقت واش روم نہیں پہنچ پاتیں۔
تشخیص کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ کی مکمل طبی تاریخ، جسمانی معائنہ، پیشاب کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ اور ضرورت پڑنے پر Urodynamic Study جیسے جدید ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ بیماری کی صحیح نوعیت معلوم کی جا سکے۔
علاج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر مریضہ کے لیے علاج اس کی کیفیت کے مطابق تجویز کیا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں Pelvic Floor (Kegel) Exercises، مثانے کی تربیت (Bladder Training)، وزن میں کمی، کیفین اور کاربونیٹڈ مشروبات سے پرہیز اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں کافی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ بعض مریضات کو ادویات دی جاتی ہیں، جبکہ پیچیدہ یا شدید صورتوں میں جدید Minimally Invasive Sling Surgery اور دیگر جراحی طریقوں سے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر نرملا نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، کیونکہ بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری روزمرہ زندگی، خود اعتمادی، ازدواجی تعلقات اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب علاج کے ذریعے بیشتر خواتین دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکتی ہیں۔
پروگرام کے اختتام پر ناظرین کو یہ پیغام دیا گیا کہ خواتین کی صحت سے متعلق کسی بھی غیر معمولی علامت کو شرمندگی کا باعث بنانے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے فوری مشورہ کیا جائے، کیونکہ بروقت تشخیص اور جدید علاج ہی صحت مند اور بااعتماد زندگی کی ضمانت ہیں۔
نوٹ: قارئین ڈاکٹر نرملا اے پاپلکرکی مکمل بات چیت آپ یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی دیگر امراض پرماہرین کی ویڈیوز بھی منصف ٹی وی ہیلتھ پر دیکھ سکتےہیں۔