• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • حد بندی سے پہلے وجے کا بڑا مطالبہ،خواتین کے 33 فیصد کوٹے کے ساتھ 543 نشستیں برقرار رکھنے کی مانگ

حد بندی سے پہلے وجے کا بڑا مطالبہ،خواتین کے 33 فیصد کوٹے کے ساتھ 543 نشستیں برقرار رکھنے کی مانگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 14, 2026 IST

 حد بندی سے پہلے وجے کا بڑا مطالبہ،خواتین کے 33 فیصد کوٹے کے ساتھ 543 نشستیں برقرار رکھنے کی مانگ
تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے اس کے لیے آئین میں ضروری ترمیم کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ وجے نے اپنے خط میں 12 اگست 2026 کو تمل ناڈو اسمبلی سے منظور ہونے والی قرارداد کا حوالہ دیا۔ اس قرارداد میں پارلیمانی حلقوں کی آئندہ حد بندی اور خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کے نفاذ سے متعلق مطالبات کیے گئے ہیں۔

ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم نہ بدلے

وجے کے مطابق، تمل ناڈو اسمبلی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا کی کل نشستیں 543 ہی رہنی چاہئیں اور مختلف ریاستوں کو دی گئی نشستوں کی موجودہ تقسیم میں بھی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے اس مطالبے کو قبول کرنے اور اس کے لیے ضروری آئینی ترمیم لانے کی درخواست کی ہے۔

خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں

قرارداد میں مرکز سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو آئندہ انتخابات سے نافذ کیا جائے۔ وجے نے کہا کہ خواتین کے کوٹے کو نافذ کرتے وقت لوک سبھا کی موجودہ نشستوں اور ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔

حد بندی پر جنوبی ریاستوں کو کیا خدشہ ہے؟

یہ معاملہ حد بندی سے جڑا ہوا ہے۔ حد بندی کا مطلب پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی حدود اور نشستوں کی نئی تقسیم طے کرنا ہے۔ تمل ناڈو کو خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں ریاستوں کی لوک سبھا نشستیں آبادی کی بنیاد پر دوبارہ تقسیم کی گئیں تو جنوبی ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔ تمل ناڈو اسمبلی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جن ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، انہیں اس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں کم نمائندگی نہیں ملنی چاہیے۔ کیونکہ اسی وجہ سے تمل ناڈو کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں آبادی کے حساب سے نشستوں کی نئی تقسیم سے جنوبی ریاستوں کی سیاسی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ 

1971 کے بعد کی آبادی کو بنیاد بنانے کی مخالفت

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1971 کے بعد آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کو بنیاد بنا کر ایسی حد بندی نہ کی جائے جس سے ریاستوں کے درمیان لوک سبھا نشستوں کی موجودہ تقسیم بدل جائے۔ وجے نے اپنے خط میں کہا کہ اس معاملے پر تمل ناڈو اسمبلی کی قرارداد پر غور کیا جائے اور ضروری آئینی ترامیم کی جائیں۔

مختلف جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی

اس قرارداد کو تمل ناڈو کی اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے کے ساتھ ساتھ حکمران ٹی وی کے اتحادیوں سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کی بھی حمایت حاصل رہی۔  ادھیانیدھی اسٹالن نے کہا کہ ان کی پارٹی کئی سال سے حد بندی کے معاملے پر تمل ناڈو کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے۔  تمل ناڈو کا مطالبہ ہے کہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستیں اور ریاستوں کے درمیان ان کی موجودہ تقسیم برقرار رکھی جائے

مرکز کی مجوزہ حد بندی کا منصوبہ

تازہ رپورٹ کے مطابق، اپریل 2026 میں مرکزی حکومت نے آئینی ترمیمی بل پیش کیا تھا، جس کا مقصد 50 سال سے جاری حد بندی پر پابندی ختم کرنا اور 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حد بندی کرنا تھا۔ اس تجویز میں لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کی بات بھی کی گئی تھی۔  یہ بل مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا۔

خواتین کے کوٹے کے حوالے سے بھی اہم نکتہ

وجے کا مطالبہ یہ ہے کہ 33 فیصد خواتین ریزرویشن کو موجودہ 543 لوک سبھا نشستوں کے اندر ہی نافذ کیا جائے، یعنی خواتین کے کوٹے کے لیے پہلے لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے یا ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم تبدیل کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ تمل ناڈو صرف نشستوں کی مجموعی تعداد 543 برقرار رکھنے کا مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ ہر ریاست کو اس وقت جتنی لوک سبھا نشستیں ملی ہوئی ہیں، ان کی موجودہ تقسیم بھی برقرار رکھنے کی بات کر رہا ہے۔

حد بندی کے معاملے پر پہلے بھی مخالفت سامنے آچکی ہے

تمل ناڈو میں لوک سبھا کی نشستوں کی ممکنہ نئی تقسیم کے خلاف پہلے بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ 8 اگست کو وزیراعلیٰ وجے کی جانب سے بلائی گئی ارکان پارلیمنٹ کی میٹنگ میں 57 میں سے 21 ارکان نے شرکت کی اور مجوزہ حد بندی کی مخالفت کی۔ اس کے بعد 12 اگست کو تمل ناڈو اسمبلی نے لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستیں برقرار رکھنے اور ریاستوں کے درمیان موجودہ نشستوں کی تقسیم نہ بدلنے کی قرارداد منظور کی۔  بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے، پی ایم کے اور ڈی ایم ڈی کے نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔