مغربی بنگال کی سیاست میں ایک اور نئی تبدیلی سامنے آ رہی ہے، فالٹااسمبلی سیٹ پر ہونے والی دوبارہ پولنگ کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے امیدوار دیبانگشو پانڈا نے فالٹا سیٹ پر تاریخی اور یکطرفہ جیت درج کی ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی حریف کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کے بھاری فرق سے شکست دی ہے۔
اس الیکشن میں دوسرے نمبر پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPIM) کے امیدوار شامبھو ناتھ کورمی رہے، جبکہ الیکشن سے عین پہلے میدان چھوڑنے والے ترنمول کانگریس (TMC) کے امیدوار جہانگیر خان چوتھے پوزیشن پر رہے۔ جہانگیر خان نے دوبارہ ووٹنگ سے چند روز قبل الیکشن نہ لڑنے کا اچانک اعلان کیا تھا۔
تشدد اور دھاندلی کے بعد الیکشن کمیشن نے کرائی تھی دوبارہ پولنگ:
واضح رہے کہ ڈائمنڈ ہاربر لوک سبھا حلقے کے تحت آنے والی فالٹا اسمبلی سیٹ پر پہلے 29 اپریل کو دوسرے مرحلے کے تحت ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس دوران علاقے میں شدید تشدد اور انتخابی عمل میں سنگین گڑبڑیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ الزامات تھے کہ ای وی ایم (EVM) مشینوں پر بی جے پی کے انتخابی نشان پر ٹیپ چپکائی گئی تھی اور پولنگ بوتھ کے اندر لگے کیمروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔
ان سنگین شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے سابقہ پولنگ کو منسوخ کر دیا تھا اور 21 مئی کو دوبارہ ووٹنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس دوبارہ پولنگ میں ووٹرز نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ریکارڈ 88.13 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔
فالٹا سیٹ کی تاریخ میں بی جے پی کی پہلی جیت:
فالٹا اسمبلی سیٹ کی سیاسی تاریخ کے لحاظ سے یہ بی جے پی کی ایک غیر معمولی کامیابی ہے:یہ سیٹ ماضی میں طویل عرصے تک سی پی آئی ایم (CPIM) کا مضبوط گڑھ مانی جاتی تھی۔گزشتہ کئی سالوں سے یہاں ترنمول کانگریس کا یکطرفہ قبضہ تھا۔ ٹی ایم سی نے پہلی بار 2001 میں یہاں جیت درج کی تھی۔ 2006 میں سی پی ایم نے واپسی کی، لیکن 2011 کے بعد سے ٹی ایم سی مسلسل یہاں سے جیت رہی تھی۔
اس الیکشن سے پہلے بی جے پی نے فالٹا کی تاریخ میں کبھی بھی یہاں سے کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ اس بار میدان میں کُل 6 امیدوار تھے، جنہیں پچھاڑ کر بی جے پی نے پہلی بار یہاں اپنا پرچم لہرایا ہے۔