Wednesday, May 06, 2026 | 18 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مغربی بنگال : الیکشن کمیشن نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری کیانوٹیفکیشن

مغربی بنگال : الیکشن کمیشن نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری کیانوٹیفکیشن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 06, 2026 IST

مغربی بنگال : الیکشن کمیشن نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری کیانوٹیفکیشن
مغربی بنگال میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے گورنر کو بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ترنمول کانگریس (TMC) کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی 207 نشستوں پر شاندار جیت کے بعد انتخابی نتائج کو "لوٹ مار اور سازش" قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
 
الیکشن کمیشن کے اہلکار کا بیان:
 
الیکشن کمیشن کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا:اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنا ایک اہم آئینی قدم ہے۔ کمیشن کی جانب سے گورنر کو نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اطلاع بھیج دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال میں نئی اسمبلی کی تشکیل کا عمل کمیشن کی جانب سے مکمل ہو گیا ہے۔ اس سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق حکومت سازی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
 
انتخابی عمل میں تمام معیارات کی پاسداری:
 
اہلکار نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں کمیشن نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے دوران تمام معیارات اور طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔ پولنگ سے لے کر گنتی تک کا پورا عمل قانونی ڈھانچے کے مطابق آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوٹیفکیشن سے نو منتخب نمائندوں کے حلف اٹھانے اور اگلی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
 
ممتا بنرجی کا استعفیٰ دینے سے انکار:
 
اس سے قبل ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے ریاست میں آئینی اور سیاسی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا:ہم الیکشن ہارے نہیں، بلکہ ہمیں ہرایا گیا ہے۔ 100 نشستوں پر ووٹوں کی لوٹ مار ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کا رویہ مکمل طور پر جانبدارانہ تھا۔ جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں استعفیٰ دے دوں؟ میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ میں سڑکوں پر تھی اور سڑکوں پر ہی رہوں گی۔
 
ہم پھر سے اٹھ کھڑے ہوں گے: ممتا
 
ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت صرف ایک پارٹی کی حکومت چاہتی ہے۔ پوری دنیا میں یہ غلط پیغام جا رہا ہے کہ جمہوری طریقے سے لڑائی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم "باؤنس بیک" کریں گے۔ ان کا کہنا تھا:بنگال میں ہم نے لڑائی لڑی ہے۔ ہماری لڑائی بی جے پی کے ساتھ نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے ساتھ تھی۔ جب کمیشن ہی بک جائے اور افسران یکطرفہ کام کریں تو نتیجہ کیا ہوگا؟ اب میں ایک آزاد چڑیا ہوں اور اپنے طریقے سے کام کروں گی۔
 
آئین کیا کہتا ہے؟
 
بھارتی آئین کے مطابق، وزیر اعلیٰ کا عہدہ گورنر کی خوشنودی (Pleasure) تک برقرار رہتا ہے۔ گورنر ہی وزیر اعلیٰ کا تقرر کرتے ہیں۔ آئین کی دفعہ 164 کہتی ہے کہ جب کوئی وزیر اعلیٰ اکثریت یا انتخاب ہار جائے لیکن استعفیٰ دینے سے انکار کر دے، تو گورنر اسے عہدے سے ہٹا کر مداخلت کر سکتے ہیں۔ گورنر ایک سرکاری حکم جاری کر کے موجودہ حکومت کو فوری طور پر تحلیل کر سکتے ہیں۔
 
اسمبلی انتخابات کے نتائج کا خلاصہ:
 
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پارٹی نے ریاست کی 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں جیت کر ٹی ایم سی کے مسلسل 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ٹی ایم سی کی نشستیں کم ہو کر صرف 80 رہ گئی ہیں۔ ممتا بنرجی اس شکست کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور مسلسل الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر ہیرا پھیری کے الزامات لگا رہی ہیں، تاہم اب گیند پوری طرح گورنر کے پالے میں ہے۔