Sunday, April 19, 2026 | 01 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • خواتین ریزرویشن اور حدبندی سے متعلق بی جے پی حکومت کی آگے حکمت عملی کیا ہوگی ؟

خواتین ریزرویشن اور حدبندی سے متعلق بی جے پی حکومت کی آگے حکمت عملی کیا ہوگی ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 18, 2026 IST

خواتین ریزرویشن اور حدبندی سے متعلق  بی جے پی حکومت کی  آگے حکمت عملی  کیا ہوگی ؟
خواتین ریزرویشن اور حدبندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل گزشتہ روز لوک سبھا میں پاس نہیں ہو سکا۔ بل کو ضروری دو تہائی اکثریت نہیں مل سکی۔ اس کے بعد حکومت نے باقی 2 بلوں کو بھی واپس لے لیا۔ حکومت نے جہاں اسے 'کالا دن' قرار دیا ہے، وہیں اپوزیشن نے خواتین ریزرویشن کے پیچھے حدبندی کی سازش کہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ خواتین ریزرویشن پر آگے کیا ہو سکتا ہے۔
 
تینوں بلوں کا کیا ہوا؟
 
مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں آئین (131ویں ترمیم) بل، حدبندی (ترمیم) بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل، 2026 لے کر آئی تھی۔ گزشتہ روز لوک سبھا میں سب سے پہلے 131ویں ترمیم بل پیش کیا گیا۔ اس کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 اراکین نے ووٹ کیا۔ چونکہ یہ آئینی ترمیمی بل تھا، اس لیے اسے منظور کرنے کے لیے دو تہائی ووٹ درکار تھے، جو نہیں ملے۔ اس کے بعد حکومت نے باقی 2 بلوں کو واپس لے لیا۔
 
اب حدبندی کب ہوگی؟
 
اگر حکومت کوئی تبدیلی نہیں کرتی تو اب حدبندی 2026 کی مردم شماری کے بعد ہوگی۔ 2002 میں لائےگئے 84ویں آئینی ترمیمی ایکٹ نے 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں نشستوں کی کل تعداد پر لگی روک 2026 تک بڑھا دی تھی۔ 2026 کے بعد حدبندی پر لگی روک ہٹ جائے گی۔ حکومت آبادی کی بنیاد پر حدبندی کر پائے گی۔ اس کے لیے جو قانون بنے گا، اسے عام اکثریت سے منظور کروایا جا سکے گا۔
 
خواتین ریزرویشن اب کب نافذ ہو سکتا ہے؟
 
اب کم از کم 2029 تک خواتین ریزرویشن نافذ نہیں ہو سکے گا۔ مانا جا رہا ہے کہ 2034 کے لوک سبھا انتخابات میں خواتین کو ریزرویشن مل سکتا ہے۔ دراصل، 2023 میں حکومت نے جو خواتین ریزرویشن ایکٹ منظور کیا تھا، اس کے مطابق ریزرویشن صرف حدبندی کے بعد ہی نافذ ہوگا، جو اگلی مردم شماری کے بعد کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے مردم شماری ہوگی پھر حدبندی ہوگی اور پھر خواتین ریزرویشن کا راستہ صاف ہوگا۔
 
2023 والے خواتین ریزرویشن بل کا کیا ہوگا؟
 
2023 میں تقریباً تمام پارٹیوں نے اتفاق رائے سے خواتین ریزرویشن سے متعلق 'ناری شکتی وندن بل' منظور کیا تھا۔ اس میں پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا انتظام ہے۔ اس قانون کو 16 اپریل 2026 کی رات کو ہی نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون نافذ رہے گا، لیکن زمین پر اس کا اثر دیکھنے کو نہیں ملے گا، کیونکہ قانون میں خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے حدبندی اور مردم شماری کی شرط ہے۔
 
باقی 2 بلوں کا کیا ہوگا؟
 
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے تصدیق کی کہ یہ بل آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور آئینی ترمیم منظور ہوئے بغیر حدبندی کا ڈھانچہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کے بعد باقی دونوں بلوں کو واپس لے لیا گیا۔ ان میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل بھی شامل ہے، جس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز ساخت کو تجویز کردہ حدبندی تبدیلیوں کے مطابق بنانا اور دہلی، پڈوچیری اور جموں و کشمیر جیسے علاقوں میں انتظامی ایڈجسٹمنٹ نافذ کرنا تھا۔
 
حکومت کی آگے کی حکمت عملی  
 
حکومت اس مسئلے پر اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دینے کی کوشش کرے گی۔ کئی مرکزی وزراء نے اپنے بیانات میں ایسا کہا بھی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ حکومت کو مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے اسمبلی انتخابات میں اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔  اس تعلق سے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا، 'ملک کی خواتین دیکھ رہی ہیں کہ ان کے راستے کی روکاوٹ کون ہے۔ جب آپ انتخابات میں جاؤ گے تو ماں کی طاقت حساب مانگے گی، تب آپ کو بھاگنے کے لیے راستہ نہیں ملے گا۔