Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • عالمی ادارہ صحت نے ایبولا کو بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا، بھارت کی جانب سے الرٹ جاری

عالمی ادارہ صحت نے ایبولا کو بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا، بھارت کی جانب سے الرٹ جاری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 24, 2026 IST

عالمی ادارہ صحت نے ایبولا کو بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا، بھارت کی جانب سے الرٹ جاری
ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے اسے بین الاقوامی تشویش کی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔ اس ہنگامی اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ اسی کڑی میں، حکومتِ بھارت نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کا غیر ضروری سفر کرنے سے بچنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
 
بھارت کی جانب سے جاری کردہ ٹریول ایڈوائزری:
 
بھارتی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریہ کانگو اور دیگر متاثرہ ممالک میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور WHO کی سفارشات کے مطابق، حکومتِ بھارت اپنے تمام شہریوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے غیر ضروری سفر سے مکمل پرہیز کریں۔
 
اس کے علاوہ، حکومت نے ان افریقی ممالک میں پہلے سے مقیم بھارتی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ طبی رہنما خطوط پر سختی سے عمل کریں۔
 
افریقہ کے 10 ممالک پر منڈلا رہا ہے خطرہ:
 
افریقی یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ یہ خطرناک وائرس جنوبی افریقہ اور یوگنڈا کے علاوہ خطے کے کم از کم 10 دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) نے بھی اسے پہلے ہی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔
 
خطرہ زدہ ممالک کی فہرست:
 
افریقی ہیلتھ ایجنسی کے مطابق انگولا، برونڈی، وسطی افریقی جمہوریہ، جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، کینیا، روانڈا، جنوبی سوڈان، تنزانیہ اور زیمبیا اس وائرس کی زد میں آ سکتے ہیں۔
 
تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا ایبولا قہر؛ کوئی ویکسین دستیاب نہیں
 
متاثرہ علاقوں میں ایبولا کے کیسز اور اموات کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  کانگو کے 3 صوبوں میں اب تک 867 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 204 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جبکہ عالمی ادارے(WHO)  کے مطابق 750 مشتبہ معاملات میں سے 177 اموات درج کی جا چکی ہیں۔
 
ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ یہ 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلی وبا کے بعد تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا ایبولا آؤٹ بریک (Prokop) بن گیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس بار اس وبا کے پیچھے وائرس کا ’بنڈی بوگیو اسٹراین‘ (Bundibugyo Strain) کارفرما ہے، جس کے علاج یا بچاؤ کے لیے فی الحال کوئی بھی ویکسین یا دوا دستیاب نہیں ہے۔
 
ایبولا وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟
 
ایبولا وائرس کا پہلا معاملہ 1976 میں افریقہ (سودان اور کانگو) میں سامنے آیا تھا اور کانگو میں اب تک اس کا یہ 17واں قہر ہے۔یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں متاثرہ شخص کے خون، قے (Vomit)، لعاب اور جسم کے دیگر مائعات (Body Fluids) کے بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔
 
واضح رہے کہ 2014 سے 2016 کے درمیان مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کی وجہ سے 11,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔