Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • پاکستان: کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکہ، 23 افراد ہلاک ، 47 زخمی

پاکستان: کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکہ، 23 افراد ہلاک ، 47 زخمی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 24, 2026 IST

پاکستان: کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکہ، 23 افراد ہلاک ، 47 زخمی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ایک انتہائی افسوسناک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے، یہاں  ریلوے ٹریک کے قریب ایک زوردار دھماکے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 47 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ ایک خودکش (فدائی) حملہ تھا جس میں ایک مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد اور بعض کی نازک حالت کے پیشِ نظر ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 
پاکستانی فوج کے جوانوں کو لے جانے والی ٹرین کو بنایا گیا نشانہ:
 
رپورٹس کے مطابق، جس ٹرین کو نشانہ بنایا گیا وہ کوئٹہ کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں پاکستانی فوج کے جوان سوار تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے بھی شامل ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ یہ لرزہ خیز واقعہ کوئٹہ کے مصروف ترین علاقے چمن پھاٹک کے قریب پیش آیا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ٹرین کو شدید نقصان پہنچتے اور جائے حادثہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
 
ٹرین کے 3 ڈبے پٹری سے اترے، درجنوں گاڑیاں تباہ:
 
ریلوے حکام نے بتایا کہ کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین جیسے ہی چمن پھاٹک کے پاس پہنچی، وہاں پہلے سے گھات لگائے حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ انجن سمیت ٹرین کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ 2 ڈبے مکمل طور پر الٹ گئے۔ دھماکے کے شدید جھٹکوں کی وجہ سے ریلوے ٹریک کے قریب پارکنگ میں کھڑی درجنوں نجی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر دیگر کئی ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے۔
 
وزیرِ ریلوے کی شدید مذمت؛ ریسکیو آپریشن جاری:
 
بلوچستان حکومت کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد پولیس، سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں منتقل کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
 
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا،ایسے بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم اور حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے۔ پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے اور ٹریک کی بحالی کے لیے امدادی ٹرینیں اور ریسکیو ٹرک موقع پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔وزیرِ ریلوے نے واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
 
بی ایل اے (BLA) نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی:
 
بعض غیر تصدیق شدہ اور دفاعی ذرائع کے مطابق، کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے اس فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ایل اے کی فدائی یونٹ 'مجید بریگیڈ' نے کوئٹہ کینٹ سے پاک فوج کے اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا ہے اور تنظیم اس آپریشن کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہے۔" عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔