بھارت میں جولائی 2026 کے دوران سامان اور خدمات ٹیکس جی ایس ٹی کی وصولی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ہفتہ 1 اگست کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں جی ایس ٹی کی مجموعی وصولی سالانہ بنیاد پر 15.4 فیصد بڑھ کر 2.11 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
جی ایس ٹی آمدنی کی تفصیلات
جولائی کی مجموعی جی ایس ٹی وصولی میں مختلف حصوں کا تعاون رہا، مرکزی سی جی ایس ٹی: 39,835 کروڑ روپے، ریاستی ایس جی ایس ٹی : 47,881 کروڑ روپے، انٹیگریٹڈ ائی جی ایس ٹی : تقریباً 1.23 لاکھ کروڑ روپے، حکام کے مطابق جی ایس ٹی وصولی میں ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
آر بی آئی نے فکسڈ ڈپازٹ کے قوانین میں تبدیلی کی
ریزرو بینک آف انڈیا "آر بی آئی" نے فکسڈ ڈپازٹ ایف ڈی کے قوانین میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی ہدایات 1 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوں گی۔ آر بی آئی کے مطابق، بینکوں کو ایک ہی رقم اور ایک ہی دن جمع کیے گئے ڈپازٹس پر تمام برانچوں میں یکساں شرح سود دینی ہوگی۔ مرکزی بینک نے کہا کہ ڈپازٹس پر دی جانے والی سود کی شرح، بلک ڈپازٹس، تمام صارفین اور تمام برانچوں کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ ایک ہی تاریخ کو قبول کیے گئے یکساں نوعیت کے ڈپازٹس کے درمیان سود کے معاملے میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔
ایتھنول ملاوٹ نہ ہوتی تو پیٹرول 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا تھا
حکومت نے کہا ہے کہ اگر پیٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ نہ کی جاتی تو مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ بڑھ سکتی تھی۔ حکومت کے مطابق، پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ای20 کی ملاوٹ سے نہ صرف خام تیل کی درآمد پر انحصار کم ہوا بلکہ صارفین کو قیمتوں میں بھی فائدہ ملا۔
خام تیل کی قیمت اور پیٹرول پر اثر
حکومت نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران خام تیل کی قیمت تقریباً 135 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ اگر ایتھنول ملاوٹ نہ ہوتی تو بھارت میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 125 روپے فی لیٹر تک جا سکتی تھی۔ ایتھنول ملاوٹ کی پالیسی، خام تیل کی دستیابی اور تیل کمپنیوں کی خریداری کی حکمت عملیوں کی وجہ سے صارفین کو پیٹرول تقریباً 94.77 روپے فی لیٹر میں دستیاب رہا۔ حکومت کے مطابق، ہر لیٹر پیٹرول میں شامل 20 فیصد ایتھنول مقامی طور پر تیار کیا گیا، جس کی قیمت پہلے سے طے شدہ تھی اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہیں ہوئی۔ حکومت نے کہا کہ اس پالیسی کی وجہ سے بحران کے دوران صارفین کو پٹرول پمپ پر تقریباً 30 روپے فی لیٹر کی بچت ہوئی۔