• News
  • »
  • صحت
  • »
  • مرگی کی علامات، وجوہات اور جدید علاج پرماہرنیورولوجسٹ کی جامع گفتگو

مرگی کی علامات، وجوہات اور جدید علاج پرماہرنیورولوجسٹ کی جامع گفتگو

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 01, 2026 IST

مرگی کی علامات، وجوہات اور جدید علاج پرماہرنیورولوجسٹ کی جامع گفتگو
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Epilepsy: Symptoms, Causes & Treatment" کے موضوع پر ایک معلوماتی اور عوامی آگاہی سے بھرپور نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر سنتوش سری رام، کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس، حیدرگڈہ، حیدرآباد نے مرگی (Epilepsy) سے متعلق عام غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے اس بیماری کی وجوہات، علامات، تشخیص، جدید علاج اور احتیاطی تدابیر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

مرگی ایک اعصابی بیماری ہے نفسیاتی یا روحانی مسئلہ نہیں 

گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر سنتوش سری رام نے کہا کہ مرگی ایک اعصابی بیماری ہے، نہ کہ کوئی نفسیاتی یا روحانی مسئلہ، جیسا کہ بعض لوگ اب بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری میں دماغ کے خلیوں میں غیر معمولی برقی سرگرمی پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو بار بار دورے پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرگی کا بروقت علاج ممکن ہے اور بیشتر مریض مناسب ادویات کے ذریعے معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

 مرگی کےبڑے علامات 

ڈاکٹر نے بتایا کہ مرگی کی علامات ہر مریض میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض افراد کو پورے جسم میں جھٹکے آتے ہیں، جبکہ کچھ مریض چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں، نظریں ایک جگہ جم جاتی ہیں یا انہیں اردگرد کے ماحول کا احساس نہیں رہتا۔ بعض اوقات ہاتھ یا چہرے کے کسی ایک حصے میں جھٹکے، بے ہوشی، زبان کا کٹ جانا یا پیشاب پر قابو نہ رہنا بھی مرگی کے دورے کی علامات ہو سکتی ہیں۔

 مرگی کے عام وجوہات 

انہوں نے وضاحت کی کہ مرگی کی وجوہات میں پیدائشی دماغی مسائل، سر پر شدید چوٹ، دماغی انفیکشن، فالج، دماغی رسولی، موروثی عوامل یا بعض اوقات وجہ کا معلوم نہ ہونا بھی شامل ہے۔ تاہم ایک یا دو مرتبہ دورہ پڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص مرگی کا مریض ہے، اس لیے درست تشخیص انتہائی ضروری ہے۔

 مرگی کی تشخیص 

تشخیص کے حوالے سے ڈاکٹر سنتوش سری رام نے بتایا کہ مریض کی مکمل طبی تاریخ، نیورولوجیکل معائنہ، EEG (الیکٹرو اینسیفلوگرام) اور MRI Brain جیسے جدید ٹیسٹ بیماری کی نوعیت جاننے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تشخیص جتنی جلدی ہو، علاج کے نتائج اتنے ہی بہتر ہوتے ہیں۔

 مرگی کا علاج: دوائیں اور سرجری  کے ذریعہ 

علاج پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مرگی کے لیے مؤثر ادویات دستیاب ہیں، جن سے بیشتر مریضوں میں دوروں پر کامیابی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر دواؤں سے افاقہ نہ ہو تو بعض مخصوص مریضوں میں مرگی کی سرجری، Vagus Nerve Stimulation (VNS) یا دیگر جدید طریقہ علاج بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مریضوں کو ہدایت دی کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے دورے دوبارہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

 مرگی کےدورے  پر کیا نہیں کرنا چاہئے

ڈاکٹر سنتوش سری رام نے یہ بھی بتایا کہ مرگی کے دورے کے دوران مریض کو زبردستی پکڑنے، منہ میں چمچ یا کپڑا ڈالنے یا پانی پلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مریض کو محفوظ جگہ پر کروٹ  کر کے لٹائیں، اردگرد موجود خطرناک اشیاء ہٹا دیں اور اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے تو فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں۔

مرگی قابل علاج بیماری ہے

پروگرام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مرگی کوئی لاعلاج بیماری نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج اعصابی عارضہ ہے۔ بروقت تشخیص، باقاعدہ علاج، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی مریض کی زندگی کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ مرگی کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا رویہ اپنایا جائے، تاکہ وہ بھی اعتماد کے ساتھ تعلیم، ملازمت اور سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لے سکیں۔
 
 

 قارئین آپ ڈاکٹر سنتوش سری رام کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس حیدرآباد کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور صحت سے جڑے کسی بھی معاملے پر دیگر ویڈیوز منصف ٹی وی  ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔