Sunday, September 06, 2026 | 22 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • مدھیہ پردیش میں مبینہ زہریلی شراب پینے سے11 افراد ہلاک

مدھیہ پردیش میں مبینہ زہریلی شراب پینے سے11 افراد ہلاک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 06, 2026 IST

مدھیہ پردیش میں مبینہ زہریلی شراب پینے سے11 افراد ہلاک
مدھیہ پردیش کےضلع ساگر  میں مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے کم از کم 11 افراد کی موت ہوگئی۔ حکام نے اتوار کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ افراد نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب شراب نوشی کی تھی۔ یہ واقعہ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 30 کلومیٹر دور بانڈا تحصیل کے دو گاؤں، نورا ج اور گوگرا خورد میں پیش آیا۔

اطلاع ملتےہی اہلکار موقع پر پہنچے

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ساگر کے کمشنر، انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی)، ضلع مجسٹریٹ و کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ اعلیٰ حکام نے متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کی اور واقعے سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے اسپتال میں کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔

علاقہ میں تشویش 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد بانڈا کے باراج گاؤں کے رہنے والے تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ مبینہ طور پر زہریلی شراب کہاں سے حاصل کی گئی اور اس میں کس قسم کا زہریلا مادہ موجود تھا۔ پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں معاملے کی مزید تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں سے جن کی حالت خراب تھی، انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

شراب کی 7 دکانیں سیل

اس واقعہ کے بعد حکام نے غیر قانونی شراب کا کاروبار کرنے والوں  پر  سخت قانونی کاروائی کی ہدایت دی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر علاقے میں شراب کی سات دکانوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور فوری نمونے لینے کو کہا گیا  ہے۔ انتظامیہ نے ان مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے جنہوں نے شراب نوشی کی ہے اور انہیں الٹی، سر درد یا بخار جیسی علامات کا سامنا ہے، احتیاط کے طور پر چیک اپ کے لیے فوری طور پر قریبی  ہیلتھ سینٹر  سے رجو ہونے پر زور دیا گیا۔ 

ضلع مجسٹریٹ کا دورہ 

ضلع مجسٹریٹ پرتیبھا پال نے بھی اسپتال کا دورہ کرکے مریضوں کی حالت معلوم کی اور افسران کو فوری تحقیقات کرنے اور سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی۔کلکٹر نے کہا کہ مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے کئی لوگ بیمار ہو گئے تھے جبکہ کچھ کی موت ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر کا سول ہسپتال میں طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔

قریبی اسپتالوں میں اسکریننگ

"ڈاکٹروں کی ایک ٹیم دو قریبی دیہاتوں میں اسکریننگ کر رہی ہے۔ جس کسی کو شک ہو کہ وہ علامات ظاہر کر رہے ہیں یا پچھلے 24 سے 48 گھنٹوں میں کسی بھی قسم کی شراب پی چکے ہیں، وہ یقینی طور پر ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں یا چیک اپ کے لیے سول ہسپتال جائیں۔ ہم ایسے معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں، اور معاملے کے حوالے سے مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔"

 سخت کاروائی کا وعدہ: سی ایم 

مبینہ طور پر جعلی شراب پینے سے ہونے والی اموات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ وزیر اور حکام کو فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سخت ترین کارروائی کرے گی اور مکمل انکوائری کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، "میں نے متعلقہ وزیر اور حکام کو فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے؛ ہم سخت ترین ممکنہ کارروائی کریں گے اور تحقیقات کریں گے۔ ہماری حکومت ایسے واقعات کو قطعی طور پر برداشت نہیں کرے گی۔"

 شراب مافیا پر قابو پانے میں حکومت کی ناکام

کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے اس واقعہ پر ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مدھیہ پردیش میں شراب مافیا پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کو بے نقاب کردیا۔ ساگر میں مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے لوگوں کی موت پر کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے کہا کہ "یہ واقعہ اس حکومت کی اصلیت کو بے نقاب کرتا ہے، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے، مدھیہ پردیش کو شراب مافیا نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، بڑے دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ ساگر میں پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں، میں خود وہاں ہر گھر جا کر متاثرین سے ملا ہوں۔" اس لت کے خلاف خون کے آنسو روتے ہیں، اور حکومت خاموش ہے، میرا خیال ہے کہ اس کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، اور مافیا کو 24 گھنٹے کے اندر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے، اور وہ اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

 معاملہ درج جانچ  جاری 

پولیس نے مشتبہ زہریلی  شراب کے ماخذ کا پتہ لگانے اور اس کی سپلائی میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ غیر قانونی شراب کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔ہلاکتوں کی وجہ اور متاثرین کی جانب سے پی گئی شراب کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
 
یہ واقعہ گجرات کے بھاو نگر ضلع میں گزشتہ ماہ جعلی شراب پینے کی وجہ سے 13 افراد کی موت کے بعد ہوا ہے، یہ ایک 'خشک' ریاست ہے جہاں شراب کی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی ہے۔