عمران خان کی صحت کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم کو خط
گواسکر اور کپل دیو سمیت21 سابق کپتان خط لکھنے والوں میں شامل
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ
سیاسی مداخلت نہیں بلکہ خالصتاً اسپورٹس مین شپ کا جذبہ
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان عمران خان کی صحت کے حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے جس میں ان کے لیے انسانی بنیادوں پر بہتر طبی امداد کی درخواست کی گئی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ لیجنڈ سنیل گواسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر بھی ان میں شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے بلکہ صرف اسپورٹس مین شپ کے جذبے سے اپیل کی جارہی ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں 73 سالہ عمران خان کا طبی معائنہ کے خان کےشخصی ڈاکٹروں کے ایک بورڈ سے کرانے کاحکم دیا۔ خان تین سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔ تاہم سابق کپتانوں نے اس خط میں الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ کے ان احکامات پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوا۔ عدالت کے احکامات کے برعکس، اسے صرف چند گھنٹے ہسپتال میں رکھا گیا، سرکاری ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا، اور یہ بتانے کے بعد کہ وہ 'صحت مند' ہیں، واپس جیل بھیج دیا گیا۔ انہوں نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عمران کی دائیں آنکھ کی بینائی خراب ہو گئی ہے۔
اپنے خط میں سابق کپتانوں نے تین اہم مطالبات کا ذکر کیا ہے۔
1. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، عمران کا شخصی ڈاکٹروں کے ایک آزاد بورڈ سے مکمل طبی معائنہ کرانا چاہیے۔
2. انھیں ہفتے میں ایک بار بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے خاندان کے افراد سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
3. بورڈ کی طرف سے تجویز کردہ علاج طبی معائنے کے فوراً بعد فراہم کیا جانا چاہیے۔
چھ ماہ قبل 14 کپتانوں نے ایسا ہی خط لکھا تھا، اب 21 کپتانوں نے اپنی آوازیں سنائی ہیں۔ خط پر آسٹریلیا کے ایلن بارڈر، گریگ چیپل، اسٹیو وا، انگلینڈ کے مائیکل ایتھرٹن، ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ سر کلائیو لائیڈ اور سری لنکا کے سابق کپتان ارجن راناٹنگا جیسی مشہور شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔ "ہمیں امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اور عمران خان کو وہ عزت ملے گی جس کے وہ حقدار ہیں۔ کرکٹ میں آپ کا،" انہوں نے خط کا اختتام کیا۔
دستخط کرنے والے سابق کپتانوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، الیسٹر کک، سنیل گواسکر، لی جرمن، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سرکلائیولائیڈ، اریورن، ایس ڈیونگ، ایس ڈیونگ اینڈریو لائیڈ، کِپ رِیُونگ۔ وینگسرکر، اسٹیفن وا، جان رائٹ۔ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسپورٹس مین شپ سرحدوں کو نہیں دیکھتی۔ کھلاڑی ریٹارئر ہونے کےباوجود بھی کھیل کےجذبہ کونہیں بھولتے۔ کھلاڑیوں کا جذبہ اور اسپورٹس مین شپ واقعی جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوتی ہے۔ جب میدان میں دو مختلف ممالک کے کھلاڑی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتے ہیں، تو ان کا مقصد صرف جیت نہیں ہوتا، بلکہ ایک دوسرے کا احترام اور کھیل کا فروغ بھی ہوتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان روایتی حریف ہونے کے باوجودمیدان سے باہر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے اور تحائف کا تبادلہ کیا کرتے تھے ۔کھیل دنوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ کھولتے ہیں جن کے سیاسی تعلقات خراب ہوتے ہیں۔کھیل ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت، دوستی اور احترام کسی بھی سرحد یا پاسپورٹ سے زیادہ اہم ہیں۔ اسی جذبہ کے تحت سابق ہندوستانی کپتانوں نے بھی عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور ان کی صحت اور سلامتی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔