مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع میں جمعرات کو پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں دھماکے کے بعد آگ لگنے سے کم از کم تین مزدور ہلاک اور 15 افراد زخمی ہو گئے۔ایک اہلکار نے یہ جانکاری دی ۔
وزیراعلیٰ موہن یادو کا بیان
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ریاستی حکومت ہر مرنے والے کے لواحقین کو 4 لاکھ روپے کی امداد فراہم کرے گی، اور زخمیوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔
کلکٹر موقع پر پہنچے
کلکٹر رتوراج سنگھ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹونک کلاں علاقے میں واقع پٹاخہ یونٹ میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک ہو گئے اور تقریباً 15 زخمیوں کو اندور اور دیواس کے ہسپتالوں میں بھیجا گیا ہے۔
ویڈیو وائرل
اس کے بعد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں، جس میں آگرہ -ممبئی قومی شاہراہ پر واقع فیکٹری سے سفید دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے ۔ کلپس میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ لوگ مدد کے لیے چیخ و پکار کے درمیان زخمیوں کو علاج کے لیے لے جاتے ہیں، جس کے جسم کے اعضاء سائٹ پر بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔
آگ پر قابو پالیا گیا
کلکٹر نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے یونٹ کے اندر ایک اور مقام پر ذخیرہ شدہ دھماکہ خیز مواد کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
15 دن پہلے کام شروع ہو اتھا
کلکٹر نے بتایا کہ انیل مالویہ نامی شخص کی فیکٹری میں چھوٹے پٹاخے بنانے کا کام صرف 15 دن پہلے شروع ہوا تھا، اور یونٹ کے لیے لائسنس جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
سی ایم نے دیا جانچ کا حکم
سی ایم یادو نے کہا، "میں نے نائب وزیر اعلیٰ اور دیواس ضلع کے سرپرست وزیر جگدیش دیوڈا ، ہوم سکریٹری اور اعلیٰ حکام کو جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ واقعے کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے۔"
زور دھماکہ سے جسم کے اعضا بکھرےپائے گئے
رہائشیوں کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں ایک زوردار دھماکہ ہوا، اور متاثرین کے جسم کے اعضاء جائے وقوعہ سے بہت دور بکھرے ہوئے پائے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس جگہ پر تعمیراتی کام جاری ہے اور وہاں مختلف شیڈ بنائے جا رہے ہیں۔