اترپردیش کے سدھارتھ نگر ضلع کے ڈومریا گنج علاقے کے پپرا رام لال گاؤں میں منگل کی صبح تقریباً 60 سال پرانے مدرسے اور اس سے متصل مسجد کو انتظامیہ نے بلڈوزر کارروائی کے ذریعے منہدم کر دیا۔ کارروائی کے بعد علاقے میں سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور اپوزیشن کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ کارروائی کی اطلاع ملتے ہی سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے انتظامیہ کے اقدام پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مدرسے اور مسجد کے خلاف کارروائی سیاسی دباؤ میں کی گئی اور مقامی لوگوں کے اعتراضات اور جذبات کو نظرانداز کیا گیا۔ ماتا پرساد پانڈے نے ضلع انتظامیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے پرانے دینی ادارے کے خلاف کارروائی سے قبل متاثرہ فریق کو مناسب موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے جلد بازی میں کارروائی کرکے مقامی لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔
انتظامیہ کا کیا کہنا ہے؟
دوسری جانب، ضلع انتظامیہ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کسی سیاسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ عدالتی حکم کی تعمیل میں کی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق، مدرسے اور مسجد سے متعلق زمین کی قانونی حیثیت اور مبینہ تجاوزات کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے سرکاری زمین سے مبینہ تجاوزات ہٹانے کا حکم دیے جانے کے بعد ہی ریونیو اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کی۔ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ کارروائی کا تعلق کسی مذہب یا برادری سے نہیں بلکہ زمین کے قانونی ریکارڈ اور عدالتی احکامات سے ہے۔
علاقے میں پولیس تعینات
واقعے کے بعد کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔اب اس معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا یہ کارروائی واقعی صرف عدالتی حکم کی تعمیل تھی، یا مقامی لوگوں کے اعتراضات اور ادارے کی تقریباً چھ دہائیوں پرانی تاریخ کو بھی مناسب قانونی تحفظ ملنا چاہیے تھا؟فی الحال اپوزیشن اور انتظامیہ کے دعوے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، جبکہ معاملے کی قانونی حیثیت اور کارروائی کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔