سپریم کورٹ میں جمعرات کو ایک اہم سیاسی اور قانونی معاملے پر سماعت ہوئی۔ یہ معاملہ کانگریس لیڈر پون کھیرا کے خلاف درج کیس سے متعلق ہے، جس میں ان پر آسام کے وزیراعلیٰ کی بیوی کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصرہ کرنے کا الزام ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں کھیرا کی پیشگی ضمانت عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کے بعد اب سب کی نظریں عدالت کے حتمی فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔
ذاتی آزادی کے تحفظ کی دلیل دی گئی:
سماعت کے دوران سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے پون کھیرا کا دفاع کرتے ہوئے اسے بے مثال کیس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل پر لگنے والے زیادہ تر الزامات توہین اور ساکھ کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہیں، جن میں گرفتاری یا حراست میں پوچھ گچھ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
سنگھوی نے عدالت میں کہا کہ فرض کریں آخر میں مجھے مجرم قرار دیا جاتا ہے، لیکن گرفتاری کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ذاتی آزادی کے تحفظ کی ضرورت ہے اور پون کھیرا کوئی عادی مجرم نہیں ہیں۔
کھیرا کی گرفتاری کی ضرورت پر سوال اٹھائے:
سماعت کے دوران سنگھوی نے کھیرا کی گرفتاری کی ضرورت پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کھرا آسانی سے ملک سے باہر نہیں جا سکتے کیونکہ پاسپورٹ آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔ سنگھوی نے مزید کہا کہ کھیرا کی گرفتاری کے لیے 50 سے 70 پولیس والے بھیج دیے گئے، جیسے وہ کسی دہشت گرد کی تلاش میں ہوں۔
مہتا نے حراست میں پوچھ گچھ کو ضروری قرار دیا:
دوسری جانب، سالیسٹر جنرل توشار مہتا نے آسام حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حراست میں پوچھ گچھ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیراکی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات اور تصویروں کے ذرائع کی جانچ کرنا ضروری ہے۔
مہتا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں غیر ملکی عناصر کی طرف سے انتخابات میں مداخلت کا خدشہ ہے اور کھیراکچھ عرصہ فرار بھی رہے۔ ریاست کا کہنا ہے کہ بغیر حراست میں پوچھ گچھ کے حقیقت سامنے لانا مشکل ہوگا۔
پاسپورٹ اور جعلی دستاویزات کا ذکر، اس لیے مقدمہ ضروری:
مہتا نے مزید کہا کہ "بنتی ببلی غائب ہو رہی ہے"، اس طرح کے بیانات شخصیت کو خراب کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیرا کی طرف سے جعلی دستاویزات بھی پیش کی گئیں جو ایک مجرمانہ عمل ہے۔ مہتا نے عدالت سے کہا کہ غیر ضمانتی دفعات کے تحت درج مقدمات میں گرفتاری ہوتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران یہ بیان دیا گیا جس میں پاسپورٹ کا ذکر ہوا، جعلی دستاویزات کی بھی بات ہوئی۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ پاسپورٹ ان ممالک کی طرف سے جاری بھی نہیں کیے گئے جن کا دعویٰ کھیرا نے کیا۔ ایسے میں مقدمہ درج ہونا ضروری ہے۔
گوہاٹی ہائی کورٹ نے کھیرا کی عرضی مسترد کی
بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل گوہاٹی ہائی کورٹ نے کھیرا کی پیشگی ضمانت عرضی مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے انہیں فلائٹ رسک بتاتے ہوئے کہا تھا کہ الزامات سنگین ہیں، جن میں دھوکہ دہی اور جعل سازی جیسے معاملات شامل ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ متنازع تبصرہ ایک نجی شخص کے خلاف تھا، اس لیے اسے عام سیاسی بیان نہیں مانا جا سکتا۔
یہ پورا تنازع 4 اپریل کو ایک پریس کانفرنس کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں پون کھیرا نے وزیراعلیٰ کی بیوی پر کئی الزامات لگائے تھے۔ سرما خاندان نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دستاویزات کو AI جنریٹڈ جعلی قرار دیا اور پولیس میں شکایت درج کروائی۔