Saturday, April 25, 2026 | 07 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • پنجاب میں گر سکتی ہے عآپ حکومت، سابق صدر کا دعویٰ؛ 28 ایم ایل اے چھوڑ سکتے ہیں پارٹی ؟

پنجاب میں گر سکتی ہے عآپ حکومت، سابق صدر کا دعویٰ؛ 28 ایم ایل اے چھوڑ سکتے ہیں پارٹی ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 25, 2026 IST

 پنجاب میں گر سکتی ہے عآپ حکومت، سابق صدر کا دعویٰ؛ 28 ایم ایل اے چھوڑ سکتے ہیں پارٹی ؟
اروند کیجریوال سمیت عام آدمی پارٹی (AAP) کے کئی بڑے لیڈروں کو دو سال قبل جیل جانا پڑا تھا، جس کے بعد سے پارٹی کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ پارٹی کو ایک دن پہلے اس وقت سب سے بڑا جھٹکا لگا جب اس کے 7 ارکانِ پارلیمنٹ نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت کے بعد پنجاب کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ریاست میں 'آپ' کی حکومت گر سکتی ہے۔
 
ہریانہ میں عام آدمی پارٹی کے سابق ریاستی صدر نوین جے ہندنے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا کے کچھ ارکان کے بی جے پی میں جانے کے بعد اب پنجاب میں بھی پارٹی کے اندر عدم اطمینان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ تقریباً 28 ارکانِ اسمبلی (MLAs) بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پنجاب کی موجودہ حکومت براہِ راست خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
 
 جے ہند نے لگائے سنگین الزامات:
 
نوین جے ہندنے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ جو لیڈر پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں، ان کے ساتھ پارٹی کے اندر اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دباؤ ڈالنے اور بدتمیزی جیسے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کافی عرصے سے چل رہے تھے جو اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر اس وقت شدید بے چینی کا ماحول ہے۔
 
 پارٹی قیادت میں کھلبلی:
 
دوسری طرف دہلی میں بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پنجاب کے انچارج منیش سسودیا گجرات سے لوٹتے ہی براہِ راست اروند کیجریوال سے ملنے پہنچے۔ اس کے فوراً بعد پنجاب حکومت کے وزیر ڈاکٹر بلبیر سنگھ بھی دہلی پہنچ گئے۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے پنجاب میں منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
 ناموں کے حوالے سے الجھن پھیلائی جا رہی ہے: عآپ لیڈر
 
پنجاب کے وزیرِ خزانہ ہرپال چیما نے اس معاملے پر سخت رخ اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی جلد ہی راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط لکھے گی اور 'دلت بدل مخالف قانون' (Anti-Defection Law) کے تحت ان ارکانِ پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ اس سلسلے میں سنجے سنگھ نائب صدرِ جمہوریہ کو ایک میمورنڈم بھی سونپ سکتے ہیں۔
 
ہرپال چیما نے یہ بھی واضح کیا کہ بی جے پی میں جانے والے ارکانِ پارلیمنٹ کی تعداد اتنی نہیں ہے جتنی بتائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صرف تین ارکان نے پارٹی چھوڑی ہے، جبکہ باقی ناموں کے حوالے سے محض افواہیں اور الجھن پھیلائی جا رہی ہے۔