Thursday, September 03, 2026 | 19 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کولکتہ میں ٹی ایم سی دفتر پر حملہ، ابھیشیک بنرجی نے کیاکاروائی کا مطالبہ

کولکتہ میں ٹی ایم سی دفتر پر حملہ، ابھیشیک بنرجی نے کیاکاروائی کا مطالبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 03, 2026 IST

کولکتہ میں ٹی ایم سی دفتر پر حملہ، ابھیشیک بنرجی نے کیاکاروائی کا مطالبہ
ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ کولکتہ میں ٹی ایم سی کے ایک پارٹی دفتر پر بی جے پی کارکنوں اور حامیوں نے حملہ کیا۔ انہوں نے اس واقعے کو اشتعال انگیز اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیوں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کولکتہ کی کیمک اسٹریٹ پر واقع ٹی ایم سی کے دفتر پر مبینہ طور پر ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حملے کے دوران پارٹی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کے فون چھینے گئے، دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور الیکٹرانک سامان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کولکتہ پولیس پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی کی جانب سے بار بار فون اور ای میل کے ذریعے اطلاع دینے کے باوجود پولیس نے بروقت کاروائی نہیں کی۔
 

ابھیشیک نے تحقیقات اور گرفتاری کا مطالبہ کیا

ابھیشیک بنرجی نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ اس مبینہ تشدد کی منصوبہ بندی، اسے منظم اور اس کی ہدایت کس نے کی۔ انہوں نے پولیس کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا مسلح گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
 

وزیر داخلہ اور پی ایم او سے بھی سوال

ایک دوسری ویڈیوں شیئر کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے سوال کیا کہ کیا گورنر، مرکزی وزیر داخلہ یا وزیراعظم کا دفتر اس معاملے میں کاروائی کرے گا۔ انہوں نے عدلیہ، خاص طور پر کلکتہ ہائی کورٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور مغربی بنگال میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
 

سویندو ادھیکاری سے استعفے کا مطالبہ

ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست میں اپوزیشن کے ساتھ اسی طرح کا سلوک جاری رہا تو وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہنے کا ان کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی غنڈہ گردی ہے اور کہا کہ تشدد، دھمکی اور طاقت کے غلط استعمال کے ہر واقعے کو یاد رکھا جائے گا۔
 

بی جے پی اور پولیس کی جانب سے جواب سامنے نہیں آیا

پولیس نے حملے کے بعد 6 افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ بی جے پی کے رکن اسمبلی سوجل گھوش نے واقعے کو مبینہ طور پر من گھڑت یا پہلے سے تیار کیا گیا واقعہ قرار دیا ہے۔ ابھی تک بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ ٹی ایم سی ماضی میں بھی بی جے پی پر اپنے پارٹی دفاتر اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ریاست میں اپوزیشن کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے اور اس کی جانب سے درج کرائی جانے والی شکایات اور ایف آئی آر پر بھی مناسب کاروائی نہیں ہوتی۔ 
 
اسی کیمک اسٹریٹ دفتر کو لے کر پہلے سے تنازع چل رہا تھا۔ حالیہ دنوں میں کولکتہ میونسپل کارپوریشن اور پولیس نے دفتر پر لگے ایک مبینہ غیر قانونی ہورڈنگ کو ہٹانے کی کوشش کی تھی، جس پر ٹی ایم سی اور پولیس کے درمیان تلخ صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ اس واقعے میں ٹی ایم سی کی جانب سے پولیس پر غیر قانونی طور پر دفتر میں داخل ہونے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔
 
 بنگال فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے ابھیشیک بنرجی کے کیمک اسٹریٹ دفتر کو فائر سیفٹی کی خلاف ورزیوں پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دفتر کی فائر سیفٹی سرٹیفیکیشن کی مدت ختم ہو چکی تھی اور کچھ اسٹوریج سے متعلق خامیاں بھی پائی گئیں؛ اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر 48 گھنٹوں کے اندر احاطہ سیل کرنے کی کاروائی ہو سکتی ہے۔
 
ٹی ایم سی کے رکنِ راجیہ سبھا ڈیرک او برائن سے کولکتہ پولیس نے تقریباً پانچ گھنٹے پوچھ تاچھ کی۔ یہ پوچھ تاچھ اسی کیمک اسٹریٹ دفتر اور مبینہ غیر قانونی ہورڈنگ کے تنازع سے متعلق تھی۔