پٹنہ: بھوجپور ضلع میں بھارت بھوشن تیواری کی پولیس انکاؤنٹر میں موت کے معاملے نے سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے اس واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے آزادانہ، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں سنگھوی نے کہا کہ اگر کسی شہری کو کیمرے کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے دیکھا جاتا ہے اور بعد میں وہ پولیس انکاؤنٹر میں مارا جاتا ہے، تو حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل وضاحت کرے اور تمام حقائق عوام کے سامنے لائے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا اصل امتحان صرف معصوم افراد کے ساتھ ہونے والے سلوک سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس بات سے طے ہوتا ہے کہ ہر شخص کے لیے قانونی عمل اور انصاف کے اصولوں کی کس حد تک پاسداری کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے حساس معاملات میں آزادانہ تفتیش ہی عوام کے اعتماد کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
دوسری جانب بہار حکومت نے اس معاملے میں عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھوجپور ضلع کے شاہ پور تھانہ علاقے کے بلوتی گاؤں میں بدھ کے روز ہونے والے انکاؤنٹر کی تحقیقات ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں کرائی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جوڈیشل انکوائری مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔