Sunday, April 26, 2026 | 08 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے جڑے منشیات کیس میں اداکارہ ریا چکرورتی کو بڑی قانونی جیت

سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے جڑے منشیات کیس میں اداکارہ ریا چکرورتی کو بڑی قانونی جیت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 26, 2026 IST

سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے جڑے منشیات کیس میں اداکارہ ریا چکرورتی کو بڑی قانونی جیت
سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے جڑے منشیات (ڈرگز) کیس میں اداکارہ ریا چکرورتی کو ایک بڑی قانونی جیت ملی ہے۔ خصوصی عدالت نے ریا کے بینک اکاؤنٹس کو فوری طور پر 'بحال' کرنے اور ان کے ضبط شدہ گیجٹس واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی ایجنسی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے سخت پھٹکار لگائی ہے۔ تقریباً 6 سال بعد ملنے والی اس راحت سے ریا اب اپنی جمع پونجی اور اثاثوں کا استعمال کر سکیں گی۔
 
ایجنسی نے قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا - عدالت
 
سشانت کی موت سے متعلق ڈرگز کیس میں خصوصی NDPS عدالت نے اداکارہ ریا کو ریلیف دیا ہے۔ عدالت نے ریا کے بینک اکاؤنٹس کو 'ان فریز' کرنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی ایجنسی کی سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے ریا کو طویل عرصے تک مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فیصلے کے بعد ریا اب اپنے بینک اکاؤنٹس اور ضبط شدہ گیجٹس استعمال کر سکیں گی۔
 
"قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اکاؤنٹس فریز نہیں کیے جا سکتے"
 
سال 2020 میں سشانت سنگھ راجپوت سے جڑے ڈرگز کیس میں این سی بی (NCB) نے ریا اور ان کے بھائی شووک چکرورتی کے بینک اکاؤنٹس فریز کیے تھے، جن پر اب تقریباً 6 سال بعد پابندی ختم ہوئی ہے۔ عدالت نے پایا کہ تفتیشی ایجنسی نے NDPS ایکٹ کی دفعہ 68F کے تحت ضروری طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ قوانین کی انحراف کی وجہ سے اکاؤنٹس پر طویل عرصے تک پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔
 
این سی بی کی بڑی لاپرواہی، 30 دن میں منظوری نہیں لی
 
عدالت نے کہا کہ قانون (این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68 ایف) کے مطابق، اگر تفتیشی ایجنسی کسی کے بینک اکاؤنٹ یا جائیداد کو ضبط کرتی ہے، تو اسے 30 دنوں کے اندر کسی سینئر سرکاری اہلکار سے منظوری لینا ضروری ہے۔
 
 اگر 30 دنوں میں یہ منظوری نہیں ملتی تو وہ ضبطی قانونی طور پر کالعدم مانی جائے گی۔ ریا کے کیس میں ایجنسی نے ایسی کوئی منظوری نہیں لی تھی، اس لیے عدالت نے ان کے اکاؤنٹس فریز کرنے کو غیر قانونی قرار دیا۔
 
ریا کے وکلاء کے دلائل پر اکاؤنٹس سے پابندی ختم:
 
ریا اور ان کے بھائی شووک نے اپنے وکلاء کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ دفاعی فریق نے دلیل دی کہ بینک اکاؤنٹس کو فریز کرنے میں مناسب قانونی عمل کی پیروی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ این سی بی قانون کے تحت مقررہ وقت کے اندر ضروری منظوری لینے میں ناکام رہی، جس سے ان کی یہ پوری کارروائی غیر قانونی ہو گئی۔ عدالت نے ان دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیا۔
 
'کاروائی جائز تھی' کی دلیل ناکام:
 
سرکاری فریق نے ریا کے بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کی درخواست کی سخت مخالفت کی اور ان کے پرانے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ منشیات سے جڑے ایک نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ افسر کے پاس اکاؤنٹس فریز کرنے کی ٹھوس وجوہات تھیں اور تفتیش کے دوران کی گئی یہ کارروائی مکمل طور پر جائز اور درست تھی۔ تاہم، تکنیکی خامیوں کی وجہ سے عدالت نے ان کی اس دلیل کو مسترد کر دیا۔
 
گرفتاری کے 6 سال بعد ریا کو راحت:
 
عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ ایکٹ (NDPS Act) کے تحت ضروری قانونی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا، اس لیے بینک اکاؤنٹس کو فریز رکھنا قانوناً غلط ہے۔ ریا کو ستمبر 2020 میں سشانت کیس سے جڑے ڈرگز الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر اداکار کو منشیات فراہم کرنے کا الزام تھا، جس کی وجہ سے انہیں 28 دن جیل میں گزارنے پڑے تھے۔ اب تکنیکی بنیادوں پر ہی سہی، ریا کو ایک بڑی مالی راحت ملی ہے۔