اتر پردیش سمیت ملک کے کئی حصوں میں حالیہ برسوں مسلموں کو گائے کے گوشت رکھنے اور کھانے کے الزام میں نشانہ بنایا گیا،کئی کی جانیں لے لی گئی ۔کئی بار ہندو تنظیموں کے ہنگامے کے بعد پولیس بھی بے گناہوں پر کاروائی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، چاہے بعد میں وہ باعزت بری ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ تاہم، اب اس معاملے پرالہ آباد ہائی کورٹ نے اہم حکم جاری کیا ہے۔
ہائی کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ گائے کے گوشت کی موجودگی کی سائنسی تصدیق کے بغیر کسی بھی طرح کی کاروائی کرنا یہ اس شخص کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ پورا معاملہ باغپت ضلع کا ہے، جہاں ایک کار کو گائے کے گوشت ہونے کے شک میں پکڑ لیا گیا تھا۔ اس کے بعد 16 جون 2025 کو ضلعی مجسٹریٹ باغپت نے گاڑی ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس کاروائی کے خلاف محمد چاند نامی شخص نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے ضلعی مجسٹریٹ کے حکم کو چیلنج کیا۔
چاند نے ہائی کورٹ میں بتایا کہ پشو چکتسک کی جانچ میں گائے کے گوشت ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت کے وکیل نے بھی یہ تسلیم کیا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ضبط کی گئی گاڑی میں گو گوشت تھا۔
عدالت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش گائے ذبح قانون کے تحت کوئی بھی کاروائی شروع کرنے کے لیے ایک مجاز لیب کی رپورٹ کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ سائنسی طور پر ثابت نہ ہو کہ گائے کا گوشت موجود ہے، گاڑی کو ضبط کرنا مکمل طور پر من مانی اور غیر قانونی ہے۔
چونکہ اس معاملے میں کوئی ٹھوس لیب رپورٹ دستیاب نہیں تھی، اس لیے ہائی کورٹ نے ضبطی کے پورے عمل کو غیر قانونی قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ درخواست گزار کی گاڑی ہی اس کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھی اور گزشتہ آٹھ ماہ سے گاڑی کی ضبطی نے اسے کافی مالی نقصان پہنچایا تھا۔
ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ کے ضبطی کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی کاروائی کو ناقص قرار دیا اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سات دنوں کے اندر درخواست گزار کو 2 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ریاستی حکومت چاہے تو متعلقہ عہدیداروں سے یہ معاوضہ وصول کر سکتی ہے۔ مزید برآں، ضبط شدہ گاڑی تین دن میں درخواست گزار کو واپس کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔