امیت شاہ نے کولکتہ میں منعقدہ ایک اہم پروگرام کے دوران مغربی بنگال کی سیاست پر بڑا بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آئندہ اسمبلی انتخابات میں مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی اور ریاست میں بنیادی تبدیلیاں لائے گی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور ریاست کا اگلا وزیر اعلیٰ بنگال سے تعلق رکھنے والا ایک عام پارٹی کارکن ہوگا، نہ کہ کسی سیاسی خاندان کا فرد۔
ہمایوں کبیر ویڈیو پر ردعمل
ہمایوں کبیر کی ویڈیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممتا بنرجی ایسی ہزاروں ویڈیوز بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ہمایوں کبیر کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں، اور پارٹی کسی بھی صورت میں ایسے عناصر کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی۔
ممتا حکومت پر الزامات
امیت شاہ نے الزام لگایا کہ ممتا حکومت کے دور میں ریاست میں خوف، بدعنوانی اور امتیازی سلوک کو فروغ ملا ہے۔ ان کے مطابق ریاست سنڈیکیٹس، جرائم پیشہ عناصر اور دراندازوں کے گٹھ جوڑ کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جس سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
یو سی سی اور سیکیورٹی پالیسی
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو یکساں سول کوڈ (UCC) کو چھ ماہ کے اندر نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سرحدی سیکیورٹی کو سخت کرتے ہوئے "ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ اور ڈیپورٹ" پالیسی اپنائی جائے گی، جبکہ مویشی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ترقیاتی منصوبے اور تعلیم
امیت شاہ نے کولکتہ کو عالمی معیار کا شہر بنانے، میٹرو نیٹ ورک کو وسعت دینے اور صنعتی ترقی کے منصوبے پیش کیے۔ اس کے علاوہ شمالی بنگال میں آئی آئی ٹی، ایمس اور دیگر تعلیمی اداروں کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔
بی جے پی نے 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا منشور بھی جاری کر دیا ہے، جس میں کسانوں، نوجوانوں اور عام عوام کے لیے متعدد ترقیاتی وعدے شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منشور ریاست کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔