Tuesday, May 12, 2026 | 24 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • آسام:ہیمنت بسوا سرما نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا لیا حلف ،دوسری مدت کا ہوا آغاز

آسام:ہیمنت بسوا سرما نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا لیا حلف ،دوسری مدت کا ہوا آغاز

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 12, 2026 IST

 آسام:ہیمنت بسوا سرما نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا  لیا حلف ،دوسری مدت کا  ہوا آغاز
آسام کے اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت درج کرنے کے بعد، منگل کو بی جے پی لیڈر ہیمنت بسوا سرما نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ گوہاٹی کے کھاناپارہ ویٹرنری کالج گراؤنڈ میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں گورنر لکشمن پرساد اچاریہ نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔
 
اس تاریخی موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، بی جے پی صدر نتن نبین اور این ڈی اے (NDA) کے زیرِ اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزرائے داخلہ نے شرکت کر کے اپنی بھرپور موجودگی درج کرائی۔
 
 دوسری مدت کا آغاز، 4 وزراء نے بھی حلف اٹھایا:
 
ہیمنت بسوا سرما نے پہلی بار 2021 میں آسام کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اقتدار سنبھالا تھا۔ اب وہ مسلسل دوسری بار ریاست کی قیادت کریں گے۔ منگل کو وزیر اعلیٰ کے ساتھ ان کی کابینہ کے چار وزراء نے بھی حلف اٹھایا، جن میں اتول بورا، اجنتا نیوگ، رامیشور تیلی اور چرن بورو شامل ہیں۔ واضح رہے کہ این ڈی اے نے 2016 کے اسمبلی انتخابات میں آسام میں کانگریس کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا اور سربانند سونووال بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔
 
 آسام میں این ڈی اے کی بھاری اکثریت:
 
آسام میں این ڈی اے مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپس آئی ہے۔ اسمبلی کی کل 126 نشستوں میں سے این ڈی اے نے 102 نشستیں حاصل کی ہیں، جن میں بی جے پی 82 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ حلیف جماعتوں میں آسام گن پریشد (AGP) اور بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (BPF) نے 10-10 نشستیں جیتیں۔ دوسری طرف، کانگریس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور وہ محض 19 نشستوں پر سمٹ گئی، جبکہ اس کی اتحادی جماعتوں کے حصے میں صرف 2-2 نشستیں آئیں۔
 
 کانگریس کا حلف برداری تقریب کا بائیکاٹ:
 
جہاں ایک طرف این ڈی اے نے اس تقریب کو اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر استعمال کیا، وہیں کانگریس نے اسے 'انتخابی ریلی' قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ آسام کانگریس کے صدر گورو گوگوئی نے الزام لگایا کہ ایک آئینی تقریب کو سیاسی تماشے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "کانگریس کا کوئی بھی نمائندہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوگا۔ ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ایک آئینی تقریب کو ایک مہنگے سیاسی تماشے کی شکل دے دی گئی ہے۔