پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں منگل (12 مئی 2026) کو ایک شدید بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد کی موت ہو گئی ہے،جبکہ 23 افراد کےزخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ رپورٹس کے مطابق زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف حکومت کو صوبے میں امن و امان کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔
مصروف بازار میں بارود سے بھرا رکشہ پھٹ گیا:
پاکستانی میڈیا کے مطابق دھماکہ ضلع لکی مروت کے ایک مصروف بازار میں اس وقت ہوا جب وہاں لوگوں کا کافی رش تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک لوڈر رکشہ میں نصب کیا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے بازار میں تباہی مچ گئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو ٹریفک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو نورنگ ہسپتال منتقل کیا۔ سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ہسپتال میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دینے کے لیے جمع ہو گئی۔
اس دھماکے سے ایک روز قبل، 11 مئی 2026 کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے بنوں حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ ہفتے کی رات بنوں کے علاقے 'فتح خیل' میں پولیس چوکی پر کار بم دھماکے میں 15 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، تحقیقات اور تکنیکی انٹیلی جنس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بنوں حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی تھی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال تشویشناک ہے اور پاکستان اس طرح کے حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف بھرپور جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔