آسام میں حالیہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں شیو ساگر ضلع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ اگرچہ کئی مقامات پر سیلابی پانی آہستہ آہستہ اترنا شروع ہو گیا ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگ اب اپنے گھروں میں جمع کیچڑ، ملبے اور تباہ شدہ سامان کے درمیان زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل آنے والے شدید سیلاب نے شیو ساگر ضلع میں وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس قدرتی آفت سے ریاست بھر میں چھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ رواں سال آسام میں سیلاب اور اس سے متعلقہ واقعات میں کم از کم 75 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مکانات، سڑکیں اور زرعی زمینیں پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد گھروں میں موٹی تہہ کی صورت میں کیچڑ اور ملبہ جمع ہو گیا ہے۔ کئی گاڑیاں بھی کیچڑ میں پھنس گئی ہیں، جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
شیو ساگر کے ایک متاثرہ رہائشی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس طرح کا سیلاب کا قہر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق، ہم نے اپنے گھر کا تقریباً تمام سامان کھو دیا ہے۔ گھریلو اشیا، ضروری دستاویزات، نقد رقم، سب کچھ سیلابی پانی کی نذر ہو گیا۔انہوں نے جذباتی انداز میں بتایا کہ سیلاب کے دوران وہ بڑی مشکل سے اپنے بچے کو پانی میں بہہ جانے سے بچا سکے، لیکن اپنی بیوی کو نہیں بچا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہے، جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔
ادھر ریاستی حکومت اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ متاثرین کو عارضی پناہ گاہوں، خوراک، پینے کے صاف پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بعض علاقوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی اور بحالی کا عمل مکمل ہونے تک متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔