• News
  • »
  • قومی
  • »
  • بھوج شالا تنازع: متبادل جگہ پر نیا تنازع، مسلم فریق نے انتظامیہ کی تجویز مسترد کر دی

بھوج شالا تنازع: متبادل جگہ پر نیا تنازع، مسلم فریق نے انتظامیہ کی تجویز مسترد کر دی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 17, 2026 IST

بھوج شالا تنازع: متبادل جگہ پر نیا تنازع، مسلم فریق نے انتظامیہ کی تجویز مسترد کر دی
مدھیہ پردیش میں واقع بھوج شالا-کمال مولا مسجد تنازع ایک بار پھر نئی قانونی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مسلم کمیونٹی کو نماز جمعہ کے لیے متنازعہ احاطے کے قریب متبادل جگہ فراہم کرنے کی عبوری ہدایت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مالیواڑہ علاقے میں ایک کھلی زمین مختص کی، تاہم مسلم فریق نے اس مقام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ۔
 
رپورٹس کے مطابق، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر جائزہ اجلاس منعقد کیا اور مالیواڑہ میں ایک کھلی جگہ کو نماز جمعہ کے لیے مختص کر دیا۔ انتظامیہ نے مسلم کمیونٹی کو اس فیصلے سے آگاہ بھی کیا، لیکن مسلم فریق نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے وہاں نماز ادا نہیں کی۔
 
مسلم فریق نے اعلان کیا ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے مختص کی گئی موجودہ جگہ پر آئندہ بھی نماز جمعہ ادا نہیں کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ درخواست گزاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے نئی درخواست تیار کی جا رہی ہے، جس میں عدالت سے انتظامیہ کی جانب سے منتخب کردہ مقام پر نظرثانی کی اپیل کی جائے گی۔
 
 
دراصل سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھوج شالا-کمال مولا مسجد تنازعے میں ایک اہم عبوری حکم جاری کیا تھا۔ کورٹ  نے انتظامیہ کو سخت ہدایت دی ہے کہ مسلم کمیونٹی کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے متنازعہ احاطے کے بالکل قریب ایک الگ اور مناسب جگہ فراہم کی جائے، تاکہ امن و امان برقرار رہے اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
 
جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ فی الحال متنازعہ احاطے کے اندر نماز کا پرانا نظام بحال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ حتمی فیصلہ آنے تک احاطے کے اندر کی موجودہ صورتحال برقرار رہے گی، تاہم مسلم عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے انتظامیہ کو متبادل جگہ کا انتظام لازمی طور پر کرنا ہوگا۔
 
درخواستوں پر جلد سماعت کا یقین
 
سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس حساس کیس سے متعلق تمام زیر التوا درخواستوں پر ترجیحی بنیادوں پر جلد سماعت کی جائے گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات کو طویل عرصے تک لٹکایا نہیں جا سکتا، اس لیے بہت جلد باقاعدہ سماعت شروع کر کے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔