• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر ریاستی درجہ: این سی کو ملی کانگریس کی حمایت۔ سجاد لون نے لگایا سنگین الزام

جموں و کشمیر ریاستی درجہ: این سی کو ملی کانگریس کی حمایت۔ سجاد لون نے لگایا سنگین الزام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 17, 2026 IST

جموں و کشمیر ریاستی درجہ: این سی کو ملی کانگریس کی حمایت۔ سجاد لون نے لگایا سنگین الزام
کانگریس 20 جولائی کو دہلی میں ہونے والے جنترمنتر پرجموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے عمرعبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے احتجاج میں شامل ہوگی۔ جموں و کشمیر کانگریس  کمیٹی کے صدر طارق حمید کرانے کہا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت بھی 20 جولائی کو احتجاج میں شامل ہوگی۔

 ریاستی درجہ کی بحالی بنیادی مطالبہ 

جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید کرّا نے20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے لیے نیشنل کانفرنس کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کا خیرمقدم کیا ہے۔طارق حمید کرّا نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دلانا عوام کا بنیادی مطالبہ ہے اور اس مقصد کے لیے کی جانے والی ہر جمہوری کوشش کی حمایت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلسل ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں آواز اٹھاتی رہی ہے اور اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے۔

 کانگریس کے مرکزی قائدین کو دعوت نامہ 

 اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ آیا راہل گاندھی احتجاج میں شامل ہوں گے۔ کررا نے کہا۔"نیشنل کانفرنس ریاست کی بحالی کے لیے ہمارے احتجاج میں شامل نہیں ہوسکتی ہے، لیکن ہم 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں ضرور شامل ہوں گے،"۔کررا نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ کانگریس کی مرکزی قیادت کس سطح پر احتجاج میں شامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور سینئر لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو دعوت نامہ بھیجا ہے۔

 احتجاج کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی غلام احمد میر نے آج کہا کہ جنتر منتر میں اتنی جگہ موجود ہے کہ وہاں کشمیر سے آئے ہوئے چند رہنماؤں کو احتجاج کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وزارتِ داخلہ اس کی اجازت دے۔ سری نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے میر نے مزید کہا کہ اگر جنتر منتر پر اجازت نہیں ملتی، تو دہلی میں کسی بھی دوسری جگہ احتجاج کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، تاکہ جموں و کشمیر کا مؤقف پورے ملک کے سامنے پیش کرنے کا موقع مل سکے۔

آرٹیکل 370 اور 35۔اے کو دفنانے کی کوشش

  پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے آج نیشنل کانفرنس کے 'جنتر منتر' احتجاج کو آرٹیکل 370 اور 35۔اے کو دفن کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ سرینگر میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس ریاست کی بحالی کے حوالے سے مخلص ہے تو انہیں چاہیے کہ جموں و کشمیر اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلا کر قرارداد منظور کریں اور ایک کل جماعتی وفد کے ساتھ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کر کے ریاست کی بحالی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈروں کو شامل کر کے ریاستی بحالی کے معاملے کو قومی سطح کا مسئلہ بنانے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔