مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں کئی روز سے جاری کسانوں کا احتجاج ختم ہو گیا ہے۔ ایس کے ایم کے بینر تلے دھرنا دینے والے کسانوں نے ریاستی حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنا احتجاج واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ احتجاج میں شامل کسان مختلف زرعی مسائل، خصوصاً کم از کم امدادی قیمت (MSP) پر فصلوں کی خریداری، کھاد کی دستیابی اور زرعی پالیسیوں سے متعلق مطالبات کو لے کر دھرنے پر بیٹھے تھے۔ حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کسانوں کے نمائندوں نے اپنے مطالبات تفصیل سے پیش کیے، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے قائم ہوا۔
حکومت نے کسانوں کو یقین دلایا کہ مونگ کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) پر خریداری کے عمل کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اپنی پیداوار سرکاری مراکز پر فروخت کر سکیں اور انہیں مناسب قیمت حاصل ہو۔ اس کے علاوہ حکومت نے کھاد کی تقسیم کے لیے نافذ ای-ٹوکن (E-Token) نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ کسانوں کا مؤقف تھا کہ اس نظام کی وجہ سے کھاد حاصل کرنے میں غیر ضروری تاخیر اور مشکلات پیش آ رہی تھیں، جس سے زرعی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔
ریاستی حکومت نے کسانوں کے دیگر مطالبات پر بھی مثبت غور کرنے اور مرحلہ وار مناسب اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان وعدوں کے بعد سمیوکت کسان مورچہ کے رہنماؤں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے اہم مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے پیش نظر فی الحال دھرنا ختم کیا جا رہا ہے۔ کسان رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر مسلسل نظر رکھیں گے۔ اگر یقین دہانیوں پر مقررہ وقت میں عمل نہ کیا گیا تو مستقبل میں دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔