• News
  • »
  • قومی
  • »
  • کسانوں کا بھوپال مارچ، مطالبات کے حق میں بڑا احتجاج

کسانوں کا بھوپال مارچ، مطالبات کے حق میں بڑا احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 29, 2026 IST

کسانوں کا بھوپال مارچ، مطالبات کے حق میں بڑا احتجاج
مدھیہ پردیش کے ہزاروں کسان اپنے مختلف مطالبات کے حق میں بھوپال میں احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین وزیر اعلیٰ موہن یادو کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کے لیے ریاستی دارالحکومت کی جانب مارچ کر رہے تھے ،پولیس نے انہیں راستے میں روک دیا۔ احتجاج کے دوران کسانوں نے نعرے بازی بھی کی، جبکہ پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی۔

کسانوں کے اہم مطالبات

احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ: مونگ کی فصل کی 100 فیصد خریداری کم از کم امدادی قیمت (MSP) پر کی جائے۔ ای ٹوکن سسٹم کو ختم کیا جائے۔ کسانوں کو زمین کے ریکارڈ کی بنیاد پر کھاد فراہم کی جائے۔ مناسب قیمت پر کھاد کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

کسانوں کا کیا کہنا ہے؟

کرانتی کاری کسان مزدور سنگٹھن یوتھ ونگ کے ریاستی صدر ارون پٹیل نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کسانوں کا سب سے بڑا مطالبہ مونگ کی فصل کی 100 فیصد خریداری MSP پر کرنا ہے، جبکہ ای ٹوکن نظام ختم کرکے  زمین کے ریکارڈ کے مطابق کھاد تقسیم کی جائے۔

پولیس نے مارچ کیوں روکا؟

سینکڑوں کسان وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے، لیکن انہیں ہوشنگ آباد روڈ پر ویر ساورکر پل کے قریب روک دیا گیا۔ حکام کے مطابق، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور مختلف مقامات پر رکاوٹیں لگا کر کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔ اس مقصد کے لیے دیگر اضلاع سے اضافی پولیس اہلکار بھی طلب کیے گئے تھے۔

کسان پیدل بھوپال پہنچے

کسان مورچہ کے بینر تلے کسان ترنگا لہراتے ہوئے،جے جوان، جے کسان" اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے ضلع سیہور کے بدھنی سے بھوپال کے لیے روانہ ہوئے۔ مظاہرین کے ساتھ پانی اور خوراک سے بھری ٹریکٹر ٹرالیاں بھی موجود تھیں۔ ایک کسان نے بتایا کہ ان کے پاس پانچ دن کا راشن اور پانی موجود ہے اور جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے، وہ واپس نہیں جائیں گے۔

کمل ناتھ نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا

کانگریس رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر کہا کہ حکومت کی بے توجہی کی وجہ سے مونگ پیدا کرنے والے کسان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مونگ کی خریداری کے عمل کو تیز کیا جائے اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔

مونگ کی خریداری سے متعلق دعویٰ

کمل ناتھ کے مطابق، مدھیہ پردیش ملک میں مونگ پیدا کرنے والی سب سے بڑی ریاست ہے۔ مرکزی حکومت نے 2025-26 کے لیے ریاست کو 4.54 لاکھ میٹرک ٹن مونگ خریدنے کا کوٹہ دیا ہے، لیکن 16 جولائی تک صرف 2 فیصد خریداری ہو سکی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی وجہ سے کسان اپنی مونگ کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔