نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشیدگی پر خاموشی توڑے اور واضح مؤقف اختیار کرے۔
بھارت کے اٹوٹ حصہ میں مبینہ مظالم پر خاموشی؟
سرینگر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز مرکز پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں مبینہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بات کرے اور کہا کہ اگر نئی دہلی اس علاقے کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے تو خاموش نہیں رہ سکتا۔عبداللہ نے پی او کے پر مرکز کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بار بار اس خطے کو ہندوستان کا حصہ قرار دیا، لیکن اس نے وہاں قتل وغارت گری اور مبینہ حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹوں پر عوامی سطح پر توجہ نہیں دی۔"وہ کہتے رہتے ہیں کہ پی او کے ہمارا حصہ ہے۔ اگر یہ آپ کا حصہ ہے تو آپ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کیوں نہیں بولتے؟ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ قتل وغارت بند ہونی چاہیے؟ میں نے ان کا کوئی بیان نہیں سنا،"۔
اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق سے اپیل
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔اور مداخلت کریں۔این سی صدر کا یہ تبصرہ جموں اور کشمیر میں جاری سیاسی اور سماجی خدشات کے درمیان آیا، عبداللہ نے پی او کے میں رپورٹ شدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لے کر بے روزگاری، منشیات کے استعمال اور طلباء کے احتجاج سے نمٹنے تک کے مسائل پر زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں 40 افراد ہلاک درجنوں زخمی
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں گزشتہ دو دنوں کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے درمیان پاکستانی فورسز کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 40 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔یو کے پی این پی) نے بدھ کے روز الزام لگایا کہ راولاکوٹ، میرپور اور مقبوضہ علاقے کے دیگر علاقوں میں 27 سے 28 جولائی کے درمیان تقریباً 40 شہری ہلاک، جبکہ متعدد زخمی ہوئے اور من مانی طور پر گرفتار کر لیے گئے۔ شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، گروپ نے الزام لگایا کہ 5 جون سے اب تک ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، کئی سو شدید زخمی ہو چکے ہیں، اور سیکڑوں کو مبینہ طور پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستانی افواج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے، UKPNP نے کہا کہ "پرامن شہریوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ یا غیر قانونی طاقت کا استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت جرائم کے مترادف ہو سکتا ہے۔
طلبا کی بات سننے کے بجائے ان پر ایف آئی آر
انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کرنے والے طلباء کے مطالبات سننے کے بجائے ان پر ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، جس سے وہاں کا احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔این سی صدر نے خبردار کیا کہ اگر حکام مظاہرین کو دی گئی یقین دہانیوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو احتجاج جاری رہے گا۔عبداللہ نے کہا، "اگر ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے اور اس کے بجائے ان پر ایف آئی آر، گرفتاریاں اور ہراساں کیے جانے لگے، تو یہ تحریک جاری رہے گی۔ طلبا اٹھے ہیں اور انشاء اللہ وہ اسے آگے بڑھائیں گے۔"
حراست اور مسماری پرتشویش کا اظہار
فاروق عبداللہ نے اننت ناگ میں حالیہ واقعہ کے بعد سیکورٹی کریک ڈاؤن کے طور پر بیان دیا، اور دعویٰ کیا کہ ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور کئی مکانات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے عوام کی بیگانگی گہرا ہو۔