کامن ویلتھ گیمز 2026 میں کئی بڑے کھیل شامل نہیں ہوں گے، جس کا اثر خاص طور پر بھارت کے تمغے جیتنے کے امکانات پر پڑ سکتا ہے۔ گلاسگو میں ہونے والے اس ایڈیشن میں گزشتہ مقابلوں کے مقابلے میں کھیلوں کی تعداد کافی کم کر دی گئی ہے۔
گلاسگو گیمز میں کتنے کھیل ہوں گے؟
2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 19 کھیل شامل تھے، لیکن 2026 کے گلاسگو ایڈیشن میں صرف 10 کھیل رکھے گئے ہیں۔ان کھیلوں میں ایتھلیٹکس، تیراکی، ٹریک سائیکلنگ، ویٹ لفٹنگ، باکسنگ، جوڈو، آرٹسٹک جمناسٹک، لان باؤلز، نیٹ بال اور 3x3 باسکٹ بال شامل ہیں۔
کرکٹ، ہاکی اور بیڈمنٹن کیوں شامل نہیں؟
گلاسگو میں مقابلوں کی تعداد کم کرنے کی بڑی وجہ وقت اور اخراجات بتائی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ نے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے 2026 کی میزبانی سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، جس کے بعد گلاسگو نے کم کھیل منعقد کرنے کی ذمہ داری لی۔منتظمین کا کہنا ہے کہ کم وقت میں مکمل پیمانے پر کامن ویلتھ گیمز کی تیاری مشکل تھی، اس لیے کئی کھیلوں کو پروگرام سے خارج کر دیا گیا۔
بھارت کو کن کھیلوں کی کمی محسوس ہوگی؟
بھارت کے لیے سب سے بڑا نقصان ان کھیلوں کے باہر ہونے سے ہوگا جن کھیلوں میں بہترین اسکورکرتا تھا ۔ ان میں:کرکٹ،ہاکی ،بیڈمنٹن، ریسلنگ، ٹیبل ٹینس، اسکواش، رگبی سیونز، بیچ والی بال شامل ہیں۔ ان کھیلوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے پی وی سندھو، منو بھاکر، ہرمن پریت سنگھ اور امان سہراوت جیسے کئی بڑے بھارتی کھلاڑی 2026 کامن ویلتھ گیمز میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
بھارت کے تمغوں پر کیا اثر پڑے گا؟
2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں بھارت نے 61 تمغے جیتے تھے اور چوتھے نمبر پر رہا تھا۔ ان میں کئی تمغے ایسے کھیلوں سے آئے تھے جو اب گلاسگو پروگرام کا حصہ نہیں ہیں۔ مثلاً: ریسلنگ سے بھارت نے 12 تمغے جیتے تھے۔ ٹیبل ٹینس سے 7 تمغے آئے تھے۔بیڈمنٹن سے 6 تمغے حاصل کیے تھے۔ہاکی اور اسکواش میں بھی بھارت نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کھیلوں کے نہ ہونے سے بھارت کے لیے تمغوں کی تعداد برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
کون سے کھلاڑی بھارت کی امید ہوں گے؟
اس بار بھارت کی امیدیں ایتھلیٹکس، ویٹ لفٹنگ، باکسنگ اور دیگر شامل کھیلوں سے وابستہ ہوں گی۔ اولمپک چیمپیئن نیرج چوپڑا اور اولمپک تمغہ جیتنے والی میرا بائی چانو جیسے کھلاڑی بھارت کی اہم امیدیں ہیں۔
2026 گیمز کا نیا انداز
گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں کھلاڑیوں کے لیے الگ انتظام کرنے کے بجائے موجودہ ہوٹلوں میں قیام کا انتظام کیا جائے گا۔ مقابلے بھی محدود مقامات پر منعقد ہوں گے تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔