اپوزیشن جماعتیں NEET-UG 2026 پیپر لیک کےمتاثرین کےساتھ
گاندھی اسمرتی پر راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کا احتجاج
ایم پیز موبائل فلیش لائٹس کے ساتھ طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا
مرکزی وزیر تعلیم دھر میندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ
جب تک طلباء کو انصاف نہیں مل جاتا جدوجہد ختم نہیں ہوگی
NEET-UG 2026 کے پیپرلیک تنازعہ میں اپنی جانیں گنوانے والے طلباء کی حمایت میں اپوزیشن 'انڈیا' اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے احتجاج کیا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ نے جمعرات کی شام دہلی میں گاندھی اسمرتی پر احتجاج کیا۔ انہوں نے تنازعہ کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلباء اور احتجاج میں زخمی ہوئے طلبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس سے پہلے راہول گاندھی کی رہائش گاہ پر اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ بعد میں پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی لیڈر بسوں میں گاندھی اسمرتی پہنچے۔ وہاں انہوں نے اپنے موبائل فون کی ٹارچ جلا کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر راہل گاندھی ایک ہاتھ میں قومی پرچم اور دوسرے ہاتھ میں آئین کی کاپی پکڑے نظر آئے۔
راہل گاندھی نے ایکس کے پلیٹ فارم سے اس احتجاج کا جواب دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن ان طلباء کے ساتھ ہے جو انصاف اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ "ہندوستان کے طلباء اکیلے نہیں ہیں۔ ہمیں طلباء کے ساتھ کھڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔" انہوں نے کہا کہ وہ ان طلباء کی یاد میں لڑ رہے ہیں جنہوں نے NEET کی بے قاعدگیوں کے بعد اپنی جانیں گنوائیں اور احتجاج میں زخمی ہونے والوں کی حمایت میں کر رہےہیں۔
دراصل، اپوزیشن انڈیا گیٹ تک مظاہرے کے طور پر جانا چاہتی تھی، لیکن پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے گاندھی اسمرتی پر احتجاج کیا جو راہل کی رہائش گاہ سے صرف ایک کلومیٹر دور ہے۔ دوسری جانب کانگریس ایم پی کماری سیلجا نے واضح کیا کہ وہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔
NEET-UG 2026 کے امتحان میں پیپر لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے الزامات کو لے کر ملک بھر کے طلباء اور نوجوانوں میں شدید غصہ ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور طلبہ یونین گزشتہ کچھ دنوں سے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہیں۔ ان مظاہروں کے تناظر میں پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ اپوزیشن کے تازہ احتجاج سے اس معاملے پر سیاسی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔