Wednesday, August 12, 2026 | 26 صفر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • بامبے ہائی کورٹ کی ایف ڈی اے کو سخت پھٹکار

بامبے ہائی کورٹ کی ایف ڈی اے کو سخت پھٹکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 12, 2026 IST

بامبے ہائی کورٹ کی ایف ڈی اے کو سخت پھٹکار
بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کو اپنے اختیارات کے استعمال میں احتیاط اور انصاف پسندی برتنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کارروائی کے دوران ایف ڈی اے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ محکمے کے پاس کارروائی کرنے کے وسیع اختیارات موجود ہیں، لیکن ان کا استعمال مناسب اور متوازن انداز میں کیا جانا چاہیے۔
 
عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے پاس تلوار چلانے کی طاقت ہے، پھر بھی آپ اسے مچھر مارنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ عدالت کا یہ تبصرہ اس تناظر میں سامنے آیا جب ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے خلاف ایف ڈی اے کی کارروائی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔
 
بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ بعض معاملات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایف ڈی اے پہلے کارروائی کر دیتا ہے اور بعد میں اس کے جواز یا حقائق کی جانچ کرتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی کاروباری ادارے کے خلاف کارروائی سے قبل قانونی طریقہ کار اور دستیاب شواہد کا مناسب جائزہ لینا ضروری ہے۔
 
’’پہلے ایکشن، بعد میں سوال‘‘ پر عدالت ناراض
 
عدالت نے ایف ڈی اے کے افسران کو یاد دلایا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال عوامی مفاد اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی کرتے وقت صرف شک یا ابتدائی معلومات کی بنیاد پر سخت قدم اٹھانے کے بجائے حقائق کی مکمل جانچ ضروری ہے۔عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریگولیٹری اداروں کے اختیارات کا مقصد شہریوں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ غیر ضروری طور پر کاروباری اداروں کو ہراساں کرنا۔
 
بھاری جرمانے کی وارننگ
 
بامبے ہائی کورٹ نے ایف ڈی اے کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر محکمے نے اپنے اختیارات کا استعمال مناسب قانونی طریقہ کار کے بغیر جاری رکھا تو عدالت بھاری جرمانہ عائد کرنے پر بھی غور کر سکتی ہے۔عدالت کی سختی سے واضح ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو اپنے اختیارات استعمال کرتے وقت نہ صرف قانون کی پابندی کرنی ہوگی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ کارروائی متناسب، شفاف اور منصفانہ ہو۔ہائی کورٹ کے ان ریمارکس کے بعد اب مہاراشٹرا ایف ڈی اے کے طریقہ کار اور خاص طور پر ہوٹلوں و ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی پر مزید توجہ مرکوز ہونے کا امکان ہے۔