اتر پردیش کے گونڈا میں یومِ آزادی کی تقریب کے دوران اسکول کی طالبات کے برقع پہن کر رقص کرنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اتر پردیش کے گونڈا ضلع میں تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔وائرل ویڈیو میں طالبات کو ثقافتی پروگرام کے دوران برقع پہن کر اسٹیج پر رقص کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد معاملہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم تک پہنچا، جس کے بعد پورے واقعے کی تحقیقات شروع کی گئی۔
تحقیقات میں اسکول ہی غیر قانونی نکلا
معاملے کی جانچ کے لیے محکمہ تعلیم کے افسران کی ایک ٹیم اسکول پہنچی۔ ٹیم نے اسکول کے تعلیمی ریکارڈ، رجسٹریشن، منظوری اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ کی۔تحقیقات کے دوران حکام کے مطابق ایک بڑا انکشاف سامنے آیا۔ بتایا گیا کہ متعلقہ اسکول محکمہ تعلیم سے ضروری منظوری اور رجسٹریشن کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ اسکول انتظامیہ مبینہ طور پر ادارے کو قانونی طور پر تسلیم شدہ ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کر سکی۔ اس انکشاف کے بعد محکمہ تعلیم نے اسکول کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کی عمارت کو سیل کر دیا۔
پہلے برقع، پھر اسکول کی قانونی حیثیت پر سوال
اس معاملے میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تحقیقات کا آغاز یومِ آزادی کی تقریب میں پیش کیے گئے ثقافتی پروگرام سے متعلق شکایت اور وائرل ویڈیو کے بعد ہوا، لیکن جانچ آگے بڑھنے پر اسکول کی قانونی حیثیت ہی سوالوں کے گھیرے میں آگئی۔اب انتظامیہ اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ بغیر ضروری اجازت کے یہ ادارہ کب سے چل رہا تھا، وہاں کتنے بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اسکول انتظامیہ نے متعلقہ قوانین اور تعلیمی ضوابط کی پابندی کیوں نہیں کی۔
انتظامیہ کا سخت موقف
حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کی تعلیم اور حفاظت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بغیر منظوری چلنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کا عمل مزید تیز کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔دوسری جانب، برقع پہن کر رقص کرنے والی طالبات کے معاملے میں بھی متعلقہ حکام کی جانب سے مزید جانچ جاری ہے۔ پولیس اور محکمہ تعلیم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پروگرام کس کی اجازت سے منعقد ہوا اور اس میں طالبات کو برقع پہن کر رقص کرنے کے لیے کیوں کہا گیا۔یوں ایک وائرل ویڈیو سے شروع ہونے والا تنازع اب صرف پروگرام تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے علاقے میں غیر قانونی طور پر چلنے والے تعلیمی اداروں کی نگرانی اور بچوں کی تعلیم و سلامتی پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔