جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) بھرتی معاملے کی تحقیقات کے دوران ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ گرفتار ملزم ابھے تیواری سے سی آئی ڈی کی پوچھ تاچھ میں مبینہ طور پر 11ویں، 12ویں اور 13ویں جے پی ایس سی امتحانات میں بھی بے ضابطگیوں سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق، ابھے تیواری نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ امیدواروں کے انٹرویو کے نمبروں میں اضافہ کرنے کے لیے مالی لین دین کیا گیا تھا۔ اس انکشاف نے جے پی ایس سی کی بھرتی کے پورے عمل پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انٹرویو کے نمبروں کے لیے لاکھوں کا سودا
سی آئی ڈی کی پوچھ تاچھ کے دوران سامنے آنے والے دعوے کے مطابق، امیدواروں کو ان کے انٹرویو میں زیادہ نمبر دلانے کے لیے لاکھوں روپے کے مبینہ معاہدے کیے گئے۔ معاملے کا سب سے اہم پہلو فاریسٹ رینج آفیسر (FRO) اور اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فاریسٹ (ACF) کی بھرتی سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ ابھے تیواری نے مبینہ طور پر تقریباً 20 امیدواروں سے 5.8 کروڑ روپے جمع کرنے کی بات تسلیم کی ہے۔ دعوے کے مطابق، ایک FRO کی پوسٹ کے لیے مبینہ طور پر 20 سے 25 لاکھ روپے جبکہ ACF کی پوسٹ کے لیے 30 سے 35 لاکھ روپے تک کی رقم طے ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔اس کے علاوہ CDPO امتحان کے سلسلے میں بھی امیدواروں سے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
14ویں جے پی ایس سی امتحان کی تحقیقات کے درمیان نیا موڑ
واضح رہے کہ جے پی ایس سی کے 14ویں ابتدائی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات پہلے ہی جاری ہیں۔ اب 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی امتحانات سے متعلق سامنے آنے والے دعووں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔اگر تحقیقات میں ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ صرف ایک امتحان تک محدود معاملہ نہیں رہے گا بلکہ جے پی ایس سی کے بھرتی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔
جے ایس ایس سی جونیئر انجینئر پیپر لیک کیس میں بھی گرفتاری
دوسری جانب جے ایس ایس سی جونیئر انجینئر امتحان کے مبینہ پیپر لیک کیس میں بھی پولیس کو ایک اور کامیابی ملی ہے۔ رانچی پولیس نے معاملے کی تحقیقات کے دوران ممبئی سے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ اب ایک طرف جے پی ایس سی بھرتی میں مبینہ مالی لین دین اور انٹرویو کے نمبروں سے متعلق دعووں کی تحقیقات جاری ہیں، تو دوسری جانب جے ایس ایس سی امتحان کے مبینہ پیپر لیک کیس میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان دونوں معاملات نے جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی کے امتحانات کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب امیدواروں اور طلبہ کی نظریں سی آئی ڈی اور پولیس کی مزید تحقیقات پر ہیں کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں میں کون کون ملوث تھا اور اس پورے نیٹ ورک کا دائرہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔