سانس کی بیماری سی او پی ڈی (Chronic Obstructive Pulmonary Disease) آج دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اکثر لوگ اس کی ابتدائی علامات کو عام کھانسی یا سانس پھولنے کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے باعث بیماری شدت اختیار کر لیتی ہے۔
سی او پی ڈی کے اسباب،علامات،علاج اور احتیاطی
کیئر ہاسپٹل چادر گھاٹ، حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر سدھیر پرساد نے منصف ٹی وی کے ایک خصوصی پروگرام ہیلتھ اور ہم میں سی او پی ڈی کے اسباب، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سی او پی ڈی پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں کی ایک دائمی بیماری ہے، جو زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے۔
قارئین آپ سی او پی ڈی پر ڈاکٹر سدھیر پرساد کا مکمل ویڈیو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
سب سے بڑی وجہ
ڈاکٹر سدھیر پرساد کے مطابق سگریٹ نوشی اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مسلسل تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بتدریج کم ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو کھانسی، بلغم اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی، صنعتی دھواں، کیمیکل ایکسپوژر اور دیہی علاقوں میں لکڑی یا کوئلے کے چولہوں کا دھواں بھی سی او پی ڈی کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسروں کے سگریٹ کا دھواں بھی خطرناک
ماہرِ امراضِ سینہ نے واضح کیا کہ پَیسِو اسموکنگ یعنی دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں میں رہنا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص خود سگریٹ نہ بھی پیتا ہو لیکن مسلسل دھوئیں میں رہے تو اسے بھی سی او پی ڈی لاحق ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
بیماری کےابتدائی اعلامات
ڈاکٹر سدھیر پرساد نے بتایا کہ بیماری کی ابتدائی علامات میں صبح کے وقت مسلسل کھانسی، بلغم، سانس پھولنا، سینے میں جکڑن اور بعض اوقات سیٹی جیسی آواز آنا شامل ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو مریض کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ معمولی چلنے پھرنے یا کھانا کھانے میں بھی سانس پھولنے لگتی ہے۔
کونسا ٹیسٹ ضروری ہے
ڈاکٹر سدھیر پرساد نے کہا کہ سی او پی ڈی کی تشخیص کے لیے اسپائرو میٹری یعنی لنگ فنکشن ٹیسٹ سب سے اہم ہے، جس کے ذریعے پھیپھڑوں کی کارکردگی معلوم کی جاتی ہے۔ انہوں نے سانس کی ورزشوں، پرانایام اور باقاعدہ ورزش کو بھی مفید قرار دیا۔
کیسے بیماری پر قابوپایا جاسکتا ہے
ماہرین کے مطابق سی او پی ڈی مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوتی، تاہم سگریٹ نوشی ترک کرنے، متوازن غذا، باقاعدہ ادویات اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل سے اس بیماری کو کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو خود علاج (سیلف میڈیکیشن) سے بچنے اور کسی بھی علامت کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔