دہلی میں NEET پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال پر جاری تنازعے کے درمیان سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل گیانیندر پرتاپ سنگھ نے اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ بلا خوف اپنی ڈیوٹی انجام دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے فیصلوں اور کاروائیوں کی ذمہ داری وہ خود لیں گے۔
سی آر پی ایف سربراہ نے کیا کہا؟
سی آر پی ایف کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گیانیندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ چاہے اہلکار آپریشنل بٹالین میں ہوں یا امن و امان کی ڈیوٹی پر، وہ اپنے فرائض بے خوف ہو کر انجام دیتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلکار اپنی ذمہ داریاں پوری اعتماد کے ساتھ نبھائیں، اور جہاں بھی جوابدہی کی ضرورت ہوگی، وہ بطور ڈائریکٹر جنرل اس کی ذمہ داری قبول کریں گے۔
تنازعہ کیوں پیدا ہوا؟
یہ بیان 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نکالے گئے 'سنسد چلو' مارچ کے بعد سامنے آیا۔ اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد کاروائی پر سیاسی بحث شروع ہوگئی۔ بدھ کے روز لوک سبھا میں راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ انہوں نے احتجاج میں زخمی ہونے والوں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات دیکھے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس نے احتجاج کے دوران برقی چارج شدہ لاٹھیاں اور کیلوں والی لاٹھیاں استعمال کیں۔
ریپڈ ایکشن فورس کی کاروائی کا جائزہ لیا جائے گا
اس سے پہلے سی آر پی ایف سربراہ نے کہا تھا کہ ریپڈ ایکشن فورس کی کاروائی کا پیشہ ورانہ پوسٹ ایونٹ اسیسمنٹ کیا جائے گا، کیونکہ احتجاج ختم ہو چکا ہے اور مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جائزے کے مکمل ہونے کے بعد سی آر پی ایف ہیڈکوارٹر اپنا سرکاری مؤقف پیش کرے گا۔
ریپڈ ایکشن فورس کیا ہے؟
ریپڈ ایکشن فورس، سی آر پی ایف ، کا ایک خصوصی ونگ ہے، جسے فسادات پر قابو پانے، ہجوم کو سنبھالنے اور شہری بدامنی کی صورتحال سے نمٹنے کی خصوصی کوچنگ دی جاتی ہے۔ سی آر پی ایف کے آپریٹنگ طریقہ کار (SOP) کے مطابق ہر بڑے آپریشن کے بعد پیشہ ورانہ پوسٹ ایونٹ اسیسمنٹ کیا جاتا ہے، جس میں فورس کی کاروائی اور پورے آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔