اسرائیل اور لبنان کے درمیان اگلے 10 دن کی جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ جنگ بندی کی خبر سے بیروت میں لوگوں میں کافی خوشی دیکھی گئی ،لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنی خوشی کا اظہا رکیا اور آسمان میں فائرنگ کرکے جشن منایا۔
خیال رہے کہ پچھلے ہفتے دونوں کے درمیان ہونے والے مہلک حملوں نے ایران-امریکہ کی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ٹروتھ پر لکھا، "مجھے امید ہے کہ حزب اللہ اس اہم وقت کے دوران اچھا اور درست رویہ اختیار کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت ہی شاندار لمحہ ہوگا۔ اب اور کوئی قتل نہیں۔ امن ہونا ہی چاہیے!
میرا جنگ ختم کرانے کا یہ دسواں کوشش ہے:ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا، منگل کو 34 سالوں میں پہلی بار ان دونوں ممالک کے نمائندوں نے واشنگٹن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ میں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ روبیو کو جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین ڈین ریجن کین کے ساتھ مل کر اسرائیل-لبنان کے ساتھ کام کرتے ہوئے مستقل امن قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ دنیا میں 9 جنگوں کو حل کرنا میرے لیے عزت کی بات رہی ہے۔ یہ میرا دسواں کوشش ہوگا۔
وہیں لبنان کے صدر نے جوزف عون نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے امن کا ’تاریخی‘ موقع قرار دیا ہے۔
لبنان میں 2,167 افراد کی موت :
ایران جنگ کے دوران ہی اسرائیل نے لبنان پر بھی حملہ شروع کر دیا تھا، جس میں لبنان کے سرحدی علاقوں اور دارالحکومت بیروت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ لبنان میں اب تک 2,167 افراد کی جان جا چکی ہے اور 7,000 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں بھی لبنان کا مسئلہ ایک بڑا رکاوٹ رہا ہے۔