مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کھانسی کی دوا (کف سیرپ) سے بچوں کی موت کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں اب تک 9 اور راجستھان میں 2 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ اس کے بعد راجستھان نے ریاستی ڈرگ کنٹرولر کو معطل کر دیا ہے۔ وہیں، تمل ناڈو اور مدھیہ پردیش نے ناقص کف سیرپ کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔اسکے علاوہ مرکزی حکومت نے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔
راجستھان میں ادویات پر پابندی:
راجستھان حکومت نے ڈرگ کنٹرولر کو معطل کرتے ہوئے ’کولڈریف‘ کف سیرپ بنانے والی کمپنی کیسنس فارما کی تمام ادویات کی تقسیم پر روک لگا دی ہے۔ حکام نے بتایا کہ صحت و طبیب شعبہ نے کیسنس فارما کی تیار کردہ تمام 19 ادویات کی سپلائی کو اگلے حکم تک بین کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے معاملے کی تحقیقات کے احکامات دیے ہیں اور ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔
تمل ناڈو نے دوا کی فروخت پر پابندی لگائی:
بچوں کی اموات کے بعد تمل ناڈو حکومت نے ’کولڈریف‘ کف سیرپ کی فروخت پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ ساتھ ہی اسے مارکیٹ سے ہٹانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ تمل ناڈو کے فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ریاستی سطح پر سیرپ کی تیاری اور فروخت مکمل طور پر ممنوع ہے۔ حکام نے کنچی پورم کے پروڈکشن پلانٹ کا معائنہ کر کے نمونے اکٹھے کیے ہیں، جن کا سرکاری لیبارٹری میں تجزیہ کیا جائے گا۔
2 سال سے کم عمر بچوں کو کف سیرپ نہ دیں:مرکزی وزارت صحت
مرکزی وزارت صحت نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2 سال سے کم عمر بچوں کو کف سیرپ نہیں دینا چاہیے۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ بچوں کی اموات سے منسلک کف سیرپ میں زہریلا کیمیکل نہیں ملا ہے۔ وزارت نے کہا کہ عام طور پر 5 سال سے کم عمر بچوں کو کف سیرپ نہیں دینا چاہیے۔ اس سے بڑے بچوں کو کف سیرپ دینے سے پہلے ڈاکٹر کو احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔
قصورواروں کو نہیں بخشا جائے گا:موہن یادو
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کہا، چھندواڑہ میں کولڈریف سیرپ کی وجہ سے بچوں کی اموات انتہائی افسوسناک ہیں۔ اس سیرپ کی فروخت پر پورے مدھیہ پردیش میں پابندی لگا دی گئی ہے۔ سیرپ بنانے والی کمپنی کے دیگر مصنوعات کی فروخت پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ریاستی سطح پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم بنائی گئی ہے۔ قصورواروں کو کسی بھی قیمت پر نہیں بخشا جائے گا۔
سیرپ میں کوئی نقصان دہ کیمیکل نہیں ملا: رپورٹ
وزارت نے بتایا کہ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (NCDC)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (NIV)، سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) سمیت دیگر ایجنسیوں نے کف سیرپ، خون اور دیگر ٹیسٹ کیے تھے۔ NIV پونے کی جانچ میں ایک نمونے میں لیپٹوسپائروسس انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 3 نمونوں کی جانچ کی تھی، جن میں نقصان دہ کیمیکل نہیں ملا۔ تاہم، مدھیہ پردیش میں 9 نمونوں کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع کے پارسیا میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران نو بچوں کی موت ہوئی ہے۔پہلا مشتبہ کیس 22 اگست کو رپورٹ ہوا تھا جبکہ پہلی موت 4 ستمبر کو ہوئی تھی۔بچوں میں ابتدائی طور پر بخار، نزلہ اور کھانسی جیسی عام علامات تھیں لیکن آہستہ آہستہ پیشاب کرنے میں دشواری اور گردے فیل ہونے لگے۔ ان بچوں کو کھانسی کا سیرپ دیا گیا تھا، جس میں ڈائیتھیلین گلائکول نامی کیمیکل پایا گیا۔