• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • مودی سے متعلق تبصرہ، 15 سالہ لڑکی کے خلاف مقدمہ واپس

مودی سے متعلق تبصرہ، 15 سالہ لڑکی کے خلاف مقدمہ واپس

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

مودی سے متعلق تبصرہ، 15 سالہ لڑکی کے خلاف مقدمہ واپس
چیف جسٹس کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبہ تبصرہ کرنے والی 15 سالہ لڑکی کے خلاف درج شکایت واپس لے لی گئی ہے۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ لڑکی کی معافی اور وزیر اعظم کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد وہ اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔

شکایت کنندہ نے مقدمہ واپس لینے کا اعلان کیا

سپریم کورٹ کی وکیل اسمرتی سنگھ، جو غازی آباد کی رہائشی ہیں، بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں آٹھ لڑکیوں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی، جن میں نوئیڈا کی 15 سالہ لڑکی بھی شامل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 29 جولائی کو نوئیڈا کے ایکسپریس وے پولیس اسٹیشن میں زیرو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اسمرتی سنگھ کے مطابق مقدمہ تعزیرات کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا، جن میں امن خراب کرنے پر اکسانا، عوامی فساد کو ہوا دینے والے بیانات دینا شامل تھے۔

معافی کے بعد شکایت واپس لی گئی

اسمرتی سنگھ نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اگر لڑکیاں معافی مانگ لیں گی تو وہ اپنی شکایت واپس لے لیں گی۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے معافی کی اپیل کے بعد نوئیڈا کی نابالغ لڑکی سمیت تمام لڑکیوں نے ویڈیو جاری کرکے معذرت کی۔ اس کے بعد انہوں نے آٹھوں لڑکیوں کے خلاف درج شکایات واپس لینے کا فیصلہ کیا اور دہلی پولیس و کرائم برانچ کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔

وزیر اعظم مودی نے کیا کہا؟

واقعے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ: گالیاں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں۔ آئیے گمراہ لوگوں کی رہنمائی کریں، مل کر کام کریں اور بھارت کی ترقی کے لیے کوشش کریں۔

خاندان اب تک گھر واپس نہیں آیا

نوئیڈا کے سیکٹر 168 کی ہاؤسنگ سوسائٹی، جہاں لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی، وہاں کے سکیورٹی گارڈز اور عملے کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے خاندان گھر واپس نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران دہلی اور نوئیڈا پولیس کئی بار رہائش گاہ پر آئی، انہیں خاندان کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

پولیس کا مؤقف

نوئیڈا پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ پولیس کو خاندان کی جانب سے ہراسانی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد اسی دن زیرو ایف آئی آر درج کی گئی تھی، بعد میں دہلی پولیس کو منتقل کر دیا گیا کیونکہ مبینہ واقعہ دہلی میں پیش آیا تھا۔ اہلکار کے مطابق اس کے بعد سے خاندان نے مقامی پولیس سے رابطہ نہیں کیا، اور امکان ہے کہ وہ عارضی طور پر فرید آباد منتقل ہوگئے ہو۔

والدہ نے کیا مطالبہ کیا؟

اس سے قبل لڑکی کی والدہ نے وزیر اعظم مودی سے اپنی بیٹی کو معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کئی بار معافی مانگ چکا ہے ۔ یکم اگست کو انہوں نے وزیر اعظم کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے ان کی بیٹی کو عوامی طور پر معاف کر دیا۔ والدہ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 10 سے 20 سال کی عمر کے بچوں کے لیے انسٹاگرام اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے پر غور کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق کم عمر بچے آسانی سے متاثر ہو جاتے ہیں اور انہیں احتجاج یا سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔

خاندان کے وکیل کا مؤقف

خاندان کے وکیل انیل کمار نے کہا کہ لڑکی نابالغ ہے، لیکن ایف آئی آر میں غلطی سے اسے 25 سالہ ملازمہ بتایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایف آئی آر مناسب ابتدائی جانچ کے بغیر درج کی گئی، اور اگر پہلے درست تصدیق کی جاتی تو شاید یہ مقدمہ درج ہی نہ ہوتا۔