Monday, August 17, 2026 | 02 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • گونڈا: اسکول میں برقعہ پہن کر طالبات کے رقص کا ویڈیو وائرل، کارروائی کا مطالبہ

گونڈا: اسکول میں برقعہ پہن کر طالبات کے رقص کا ویڈیو وائرل، کارروائی کا مطالبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 17, 2026 IST

گونڈا: اسکول میں برقعہ پہن کر طالبات کے رقص کا ویڈیو وائرل، کارروائی کا مطالبہ
اترپردیش کے گونڈا میں 15 اگست کی تقریب سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اتر پردیش کے گونڈا میں ایک اسکول انتظامیہ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ویڈیو میں کچھ طالبات کو برقعہ پہن کر رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، یہ پروگرام یومِ آزادی کے موقع پر اسکول میں منعقد کیا گیا تھا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ مقامی انتظامیہ تک پہنچا، جس کے بعد بنیادی شکشا ادھیکاری (BSA) نے واقعے کی تحقیقات کی بات کہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
 
اسکول منیجر کا معافی مانگتے ہوئے ویڈیو بھی وائرل
 
اسی دوران اسکول کے منیجر رام سریش کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر اس واقعے پر معذرت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔تاہم، پورے معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ آخر طالبات کو برقعہ ہی کیوں پہنایا گیا؟اگر مقصد محض کسی ثقافتی یا مزاحیہ پروگرام کے ذریعے پیغام دینا تھا تو کیا کسی مخصوص مذہبی شناخت سے جڑے لباس کا استعمال ضروری تھا؟
 
مذہبی شناخت کو تفریح کا ذریعہ کیوں بنایا جائے؟
 
برقعہ صرف ایک لباس نہیں بلکہ بہت سی مسلم خواتین کے لیے مذہبی اور ثقافتی شناخت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اسی لیے سوال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی تقریبات کے دوران کسی مخصوص مذہبی شناخت کو مذاق، نقل یا تفریحی پیشکش کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے حساسیت کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا؟ برقعہ پہن کر ڈانس کرنے والی طالبات مسلمان نہیں تھیں، لیکن مسئلہ صرف طالبات کے مذہب کا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی مذہبی برادری کی شناخت کو بغیر سوچے سمجھے اسٹیج پر تفریح کے لیے استعمال کرنا مناسب ہے؟ اسکول بچوں کو تعلیم، احترام اور مختلف مذاہب کے درمیان سمجھ بوجھ کا سبق دینے کی جگہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ مذہبی علامات کے استعمال میں ذمہ داری اور حساسیت کا مظاہرہ کیا جائے۔
 
سوال صرف یہ نہیں کہ ویڈیو میں کون تھا؛ سوال یہ بھی ہے کہ برقعہ ہی کیوں؟
 
مذہبی شناخت کسی مذاق یا اسٹیج ایکٹ کا سامان نہیں ہونی چاہیے۔ اگر تحقیقات میں کسی غلطی یا ضابطے کی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتی ہے تو کارروائی اپنی جگہ، لیکن اس پورے معاملے سے ایک بڑا سبق ضرور نکلتا ہے کسی بھی مذہبی برادری کی شناخت کا احترام صرف کتابوں میں نہیں، عملی زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے۔