سپریم کورٹ میں پیر کو رام مندر کے چندہ کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معاملے پر اہم سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) نے کہا کہ تحقیقات کو انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ SIT کے سربراہ خود عدالت میں موجود تھے۔
نرموہی اکھاڑہ نے بھی تحقیقات پر اٹھائے سوال
سماعت کے دوران نرموہی اکھاڑہ کے وکیل نے عدالت کی توجہ ایک الگ عرضی کی جانب دلائی اور بتایا کہ ان کی جانب سے بھی درخواست دائر کی گئی ہے، تاہم اسے ابھی درج نہیں کیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا نرموہی اکھاڑہ بھی معاملے کی مزید بہتر تحقیقات چاہتا ہے؟ چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ اگر ایسا ہے تو عدالت ان کا موقف بھی سنے گی۔ وکیل نے جواب دیا کہ ان کا مقصد عدالت کے سابقہ احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ تاہم، سالیسٹر جنرل نے اس نکتے پر کہا کہ یہ معاملہ موجودہ کیس کے دائرے سے متعلق نہیں ہے۔
SIT رپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ
چیف جسٹس نے نرموہی اکھاڑہ کے وکیل سے تحقیقات کے حوالے سے ان کی تجاویز پیش کرنے کو کہا۔ اس دوران ایک وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ SIT کی رپورٹ انہیں بھی فراہم کی جائے۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے وضاحت کی کہ فوجداری تحقیقات میں یہ معمول کا طریقہ نہیں ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ تمام فریقوں کو فراہم کی جائے۔ ان کے مطابق رپورٹ براہ راست عدالت میں پیش کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ SIT اپنی تحقیقات میں فرانزک آڈیٹر کی مدد لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی فریق کے پاس تحقیقات سے متعلق کوئی تجویز ہے تو وہ اسے سالیسٹر جنرل کے سامنے پیش کر سکتا ہے، جو اسے غور کے لیے SIT تک پہنچائیں گے۔
تین ہفتے بعد ہوگی اگلی سماعت
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہوگا۔ سالیسٹر جنرل نے تجویز دی کہ معاملے کی اگلی سماعت تقریباً تین ہفتے بعد کی جائے۔ چیف جسٹس نے آخر میں ایک بار پھر زور دیا کہ تحقیقات کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔اب اگلی سماعت میں SIT کی تحقیقات کی پیش رفت اور متعلقہ فریقوں کی تجاویز پر مزید غور متوقع ہے۔