Thursday, August 27, 2026 | 12 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • نیپال میں سیلاب سے تباہی، 162 افراد ہلاک، 133 ہندوستانیوں سمیت 750 سے زائد لاپتہ

نیپال میں سیلاب سے تباہی، 162 افراد ہلاک، 133 ہندوستانیوں سمیت 750 سے زائد لاپتہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 27, 2026 IST

نیپال میں سیلاب سے تباہی، 162 افراد ہلاک، 133 ہندوستانیوں سمیت 750 سے زائد لاپتہ
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 162 ہو گئی ہے، جبکہ 133 ہندوستانی شہریوں سمیت 750 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔ تبت کی سرحد کے قریب وسطی نیپال کے کئی اضلاع میں اچانک آنے والے سیلاب نے شدید تباہی مچائی۔ تیز رفتار پانی اپنے ساتھ گھروں، سڑکوں اور پلوں کو بہا لے گیا، جس کے باعث کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو گیا اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
 
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتہ غیر ملکی سیاحوں میں 100 سے زائد ہندوستانی، 54 امریکی، 34 آسٹریلوی اور 33 برطانوی شہری شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد نیپالی شہریوں کے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس بلیٹن کے مطابق جمعرات کی صبح 5 بجے تک آٹھ اضلاع سے 162 لاشیں برآمد کی جا چکی تھیں۔ ریسکیو اور امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم سیلاب سے تباہ ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ کئی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین ہیں۔
 
دوسری جانب نیپال کے وزیر اعظم بلیندر شاہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے سیلاب زدہ نیپال کے لیے انسانی امداد اور بچاؤ کارروائیوں میں ہر ممکن تعاون کی پیشکش پر شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نیپال اس مشکل گھڑی میں بھارت کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور امداد کی فراخدلانہ پیشکش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا اور متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانا ہے۔ نیپال میں سیلاب کی یہ تباہی ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ امدادی ادارے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔