دہلی کے رانی باغ علاقے میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ 30 سالہ خاتون کے ساتھ چلتی سلیپر بس میں گینگ ریپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ دیر رات فیکٹری سے کام ختم کر کے گھر لوٹ رہی تھی۔ اسی دوران اس نے سڑک کے کنارے کھڑے ایک نوجوان سے وقت پوچھا، مگر چند ہی سیکنڈز میں اس کی زندگی خوف اور درد سے بھر گئی۔
خاتون کے مطابق، نوجوان نے اسے زبردستی بس کے اندر گھسیٹ لیا۔ بس میں پہلے سے ہی کچھ اور لوگ موجود تھے۔ اس کے بعد چلتی بس میں تقریباً دو گھنٹے تک اس کے ساتھ درندگی کی گئی۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ پیر کی رات پیش آیا۔ متاثرہ خاتون پیتم پورہ کی ایک جھگی بستی میں رہتی ہے اور منگول پوری کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ اس کی شکایت پر پولیس نے بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو گرفتار کر لیا ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
میڈیا رپوٹس کے مطابق، 11 مئی کی رات خاتون کام کے بعد گھر لوٹ رہی تھی۔ تب سرسوتی وِہار کے بس سٹاپ پر ایک سلیپر بس رکی۔ خاتون نے بس کے دروازے پر کھڑے ایک شخص سے وقت پوچھا، جس کے بعد اسے زبردستی اندر گھسیٹ لیا گیا اور بس کو ناگلوئی کی طرف لے جایا گیا۔
متاثرہ نے بتایا کہ واقعہ کے دوران بس مختلف علاقوں میں گھومتی رہی اور ناگلوئی علاقے تک گئی۔ خاتون مسلسل مدد کے لیے چیختی رہی، مگر ملزمان نے اس کی ایک نہ سنی۔
تقریباً دو گھنٹے بعد ملزمان نے خاتون کو زخمی حالت میں سڑک پر پھینک کر فرار ہو گئے۔ کسی طرح خاتون نے خود کو سنبھالا اور پولیس کو پورا واقعہ بتایا۔خاتون کا الزام ہے کہ بس میں اس کے ساتھ ریپ ہوا۔ وہ شادی شدہ ہے اور تین بچوں کی ماں ہے۔
میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق:
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ میڈیکل چیک اپ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ پولیس نے واقعہ میں استعمال ہونے والی سلیپر بس کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ساتھ ہی علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کھنگالے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان کی شناخت ہو سکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش کے لیے متعدد ٹیمیں لگائی گئی ہیں اور جلد گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔