دہلی کی ایک عدالت نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور دہلی پولیس کو نفرت پھیلانے والے بیان کے کیس میں نوٹس جاری کیا ہے۔ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سونو اگنی ہوتری نے یہ نوٹس معروف سماجی کارکن ہرش مندر کی جانب سے دائر کی گئی ایک نظرثانی درخواست (Revision Petition) پر جاری کیا ہے۔ اس درخواست میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ہرش مندر کی اس درخواست کو ایک مجسٹریٹ کورٹ نے خارج کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سیشن کورٹ کا رخ کیا۔
ہرش مندر نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے جان بوجھ کر اپنے صوبے میں ایک مخصوص برادری کے خلاف نفرت پھیلانے والی تقریر کی تھی۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف 'بھارتیہ نیائے سنہتا' (BNS) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
دفعہ 196: مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی اور منافرت کو فروغ دینا۔
دفعہ 197: قومی یکجہتی اور سالمیت کو نقصان پہنچانے والے دعوے کرنا۔
دفعہ 299: مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کاروائی۔
دفعہ 302: دانستہ طور پر کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا۔
دفعہ 353: عوامی سطح پر امن و امان کو بگاڑنے اور شرپسندی کو شہ دینے والے بیانات۔
عدالت نے اس پورے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے 15 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔
وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اپنے بیان میں کیا کہا تھا؟
درخواست گزار ہرش مندر نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے آسام کے ضلع تنسکیا کے ڈگبوئی (Digboi) میں 27 جنوری کو ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی متنازع بیان دیا تھا۔
درخواست کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ:ریاست میں جاری خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل کے دوران '4 سے 5 لاکھ میاں ووٹرز' کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے جائیں گے۔
درخواست میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ شرما نے لوگوں کو 'میاں' برادری کو ہراساں کرنے کے لیے اکسایا اور کہا کہ "جب وہ ہراساں ہوں گے، تبھی آسام چھوڑیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ آسام میں ووٹ نہ ڈال سکیں۔ اب اس ہائی پروفائل کیس میں سب کی نظریں 15 جولائی کو ہونے والی اگلی سماعت اور دہلی پولیس کے جواب پر ٹکی ہوئی ہیں۔